’افغانستان سے انخلاء بھی ضروری‘

افغانستان میں امریکی فوجی
،تصویر کا کیپشنافغانستان جانے کا بنیادی مقصد نہیں بھلایا جا سکتا جو امریکہ کو نو گیارہ جیسے مزید حملوں سے محفوظ بنانا ہے

امریکہ کے صدر براک حسین اوباما نے کہا ہے کہ جہاں افغانستان میں مزید فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں وہیں انخلاء کی حکمت عملی بھی موجود ہونی چاہیے۔

انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس پر ایک انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں کارروائی کا بنیادی مقصد اب بھی امریکہ کے خلاف حملے روکنا ہے۔ انہوں نے انٹرویو اس وقت دیا ہے جب امریکہ افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی منظر عام پر لانے والا ہے۔

اس سے قبل افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئندہ ان دونوں ہمسایہ ممالک کے لیے امریکی پالیسی علیحدہ علیحدہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کی اس کاوش میں باقی ممالک اس کا ساتھ دیں گے۔

ہالبروک نے کہا تھا کہ کابل کے لیے بنیادی مسئلہ پاک افغان سرحد پر قائم طالبان کی پناہ گاہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ خطے کو نظرانداز کرنے کا وقت گزر گیا ہے اور اب یہاں مزید وسائل اور فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ افغانستان کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ اوباما جنہوں نےگزشتہ ماہ افغانستان میں مزید سترہ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا تھا کہا کہ مقاصد کا حصول صرف فوجی طاقت کے ذریعے ممکن نہیں جن میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو شکست دینا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک موثر حکمت عملی میں افغانستان کی اقتصادی ترقی اور پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان جانے کا بنیادی مقصد نہیں بھلایا جا سکتا جو امریکہ کو نو گیارہ جیسے مزید حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں کانگریس میں منظور ہونے والے حالیہ بِل جس میں کمپنیوں میں ملنے والے بونس پر ٹیکس لگایا گیا تھا پر سوال اٹھایا کہ آیا یہ بِل قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

اس بِل میں کانگریس کے ارکان نے انشورنس کمپنی اے آئی جی کی طرف سے حکومت سے ملنے والی ایک سو ستر ارب ڈالر کی امدادی رقم میں سے اپنے ملازمین کو ایک سو پینسٹھ ملین ڈالر کے بونس ادا کرنے پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

صدر اوباما نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ معیشت کی وسیع تر تصویر کو سامنے رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی کا کام غصے سے نہیں ہو سکتا۔