افغانستان میں فوج 5 سال رہے گی: برطانیہ

آٹھ ہزار سے زیادہ برطانوی فوجی افغانستان میں موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنآٹھ ہزار سے زیادہ برطانوی فوجی افغانستان میں موجود ہیں

افغانستان کے لیے برطانیہ کے نئے سفیر نے کہا ہے کہ افغانستان میں برطانوی فوجی اگلے پانچ سال تک رہیں گے جبکہ سویلین اہلکار اگلے بیس سال تک وہاں موجود رہ سکتے ہیں۔

افغانستان کے لیے برطانوی سفیر مارک سِیدول نے برطانوی ریڈیو ’ریڈیو فائیو لائیو‘ کو ایک انٹرویر میں کہا کہ اگلے پانچ سال میں افغان فوج اور پولیس کو اس قابل ہو جانا چاہیے کہ وہ پوری طرح اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔

انہوں نے کہا لیکن برطانوی کارکن افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کرنے کے لیے طویل عرصے تک وہاں رہ سکتے ہیں۔

برطانوی سفیر کی ذمہ داریوں میں افغانستان میں موجود برطانوی فوجی کمانڈ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا ’میرے خیال میں اگلے پانچ برس میں یااس سے کچھ زیادہ عرصے میں افغان فوج شدت پسندوں سے لڑنے کے قابل ہو جائیں گی اور پھر میں سمجھتا ہوں ہماری فوجیں واپس بلا لی جائیں گی۔‘

’تاہم افغان سویلین اہلکاروں کو وہاں طویل عرصے تک رہنا پڑے گا کیونکہ وہاں پر ایک بڑا کام باقی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کاموں میں افغان حکومت کی ملک میں استحکام بحال کرنے میں مدد، ملک کی تعمیر نو اور ترقی اور منشیات کی روک تھام کے امور شامل ہیں۔

برطانوی سفیر نے امریکہ کے صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان میں مزید سترہ ہزار فوجی تعینات کرنے کا بھی خیر مقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور طالبان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دینا چاہیے کہ وہ طاقت کے ذریعے یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔‘

اس وقت افغانستان میں برطانیہ کے آٹھ ہزار سے زیادہ فوجی تعینات ہیں۔

ایک سوال پر کہ کیا برطانیہ مزید فوجی افغانستان بھیجنے پر غور کرے گا تو انہوں نے کہا کہ حکومت اس پر نظر ثانی کرے گی کہ کیا مزید فوجیوں کی ضرورت ہیں تاہم مسئلہ یہی ہے کہ افغان فوج کو اپنی صلاحیت کو بہتر بنانا ہو گا۔

ول سیدول پاکستان سے افغانستان جا رہے ہیں اور انہیں سر رچرڈ کوپر کولز کی جگہ تعینات کیا گیا ہے جو سیکریٹری خارجہ کے افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی ایلچی تھے۔