افغانستان کے لیے امریکی فوج کی تیاری

امریکی فوجی
،تصویر کا کیپشنیوں لگتا ہے ہے کہ جیسے یہ فوجی ایک اور خونریز سال کے لیے تیار ہیں

جنوبی کیرولائنا کے فورٹ بریگ فوجی اڈے پرامریکی فوجی جہاز تیار کھڑے ہیں جو کہ 82 کامبیٹ ایوی ایشن بریگیڈ کے ہمراہ چند ہی ہفتوں میں قندھار کے لیے روانہ کردیے جائیں گے۔ ان جہازوں میں وہ عظیم الشان کارگو جہاز بھی ہوں گے جن کے ذریعے فوجی ہیلی کاپٹر افغانستان تک پہنچائے جاسکیں گے۔

82 کامبیٹ ایوی ایشین بریگیڈ کے فوجی نہ صرف مہلک اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر اڑانے میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمی فوجیوں کو لڑائی کے مقام سے باہر نکالتے ہیں اور چنوک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلحہ، فوجی اور پانی فراہم کرتے ہیں۔ فوج کی زبان میں ان فوجیوں کو ’ممکن بنانے والے‘ کہا جاتا ہے۔

اور ان فوجیوں کی جنوبی افغانستان میں تعیناتی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ قندھار اور ہلمند میں امریکی فوج کو سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے۔

یہ فوجی جنوبی افغانستان میں پہلے ہی سے موجود فوج کے ساتھ مل کر کام کریں گے جو کہ ہالینڈ کے ایک جنرل کے ماتحت ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ فوجی ایک اور خونریز سال کے لیے تیار ہیں۔

چیف وارنٹ آفیسر برٹ شابر کا کہنا ہے ’ہم برے عناصر پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو ان کی طرف سے رد عمل یقینی ہے۔ ہمارے فوجی زخمی بھی ہوں گے بلکہ اس سے بدتر بھی کچھ ہوسکتا ہے‘۔

موسم کی تبدیلی کے ساتھ افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوجاتاہے کیونکہ برف کے باعث بند ہونے والے رستے بھی قابل گزر بن جاتے ہیں۔

82 ویں یونٹ کے کمانڈنگ افسر کرنل پال برکر کا کہنا ہے کہ صرف ان کے ہیلی کاپٹر ہی کٹھن علاقوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں تاہم ان کا مقصد علاقوں تک رسائی حاصل کرنے سے زیادہ ’لوگوں‘ تک پہنچنا ہے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوجی کارروائی کو تروتازہ کرنے کے لیے ہر طرح کے پائلٹ، ادویات، انجینیئر، مشینوں، مترجم افراد، انٹیلی جینس افسران، انتظامیہ کے افراد غرضیکہ ہر طرح کے افراد اور سامان کی ضرورت ہوگی۔

اور یہی امریکی صدر اوباما کا مقصد ہے۔

کہا جارہا ہے کہ اوباما کئی دن تک افغانستان کے لیے حکمت عملی کے دستاویزات کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔

تاہم لوگ چاہتے ہیں کہ امریکی صدر اس حکمت عملی کو وضع کرنے کے طریقوں کے علاوہ بھی بہت سے سوالوں کے جواب دیں۔ مثلاً یہ کہ افغانستان میں سات سالہ فوجی آپریشن سے امریکہ نے کیا حاصل کیا، کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اور کیوں؟

واشنگٹن میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ امریکی حکومتیں کسی حکمت عملی کے بغیر فوجی آپریشن جاری رکھتی ہیں اور انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ ان سے پچھلوں نے کیا کیا یا پھر اگلی حکومتیں کیا کریں گی۔

کہا جارہا ہے کہ حکمت عملی میں پاکستان سے متعلق حصے وضع کرنا مشکل ترین ثابت ہوا ہے۔

کئی حلقوں کے خیال میں طالبان اور القاعدہ کے عناصر پاکستانی سرزمین کو اپنے اڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اور ان عناصر کو ختم کیے بغیر افغانستان میں دیر پا استحکام ممکن نہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مثلاً برطانیہ اس مقصد کو کیسے حاصل کرتے ہیں۔

امریکہ کے پاس چند ہی رستے ہیں۔ اس جنگ میں پاکستان کی حکومت کی مکمل شمولیت اور مسئلہ کوامریکی نکتہ نظر سے دیکھے بغیر علاقے میں کسی بھی قسم کے لائحہ عمل کو نافذ کرنا نہایت مشکل ثابت ہوگا۔