صورتِ حال انتہائی خراب ہے: اوباما

براک اوبامہ
،تصویر کا کیپشنامریکہ صدر نے کہا ہے کہ پاکستان کی محفوظ پناہ گاہوں میں امریکہ پر حملوں کے منصوبے بن رہے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

جمعہ کے روز افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک سرحدی علاقے بن گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> القاعدہ کی پاکستان سے منصوبہ بندی: اوباما کی ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/mediaselector/check/urdu/meta/dps/2009/03/090327_obama_alqaeda_pak?nbram=1&nbwm=1&bbram=1&bbwm=1&size=au&lang=en-ws&bgc=003399" platform="highweb"/></link>

انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور اس کے اتحادی پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں اور پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج افغانستان میں اس لیے نہیں ہے کہ وہ افغانستان کو کنٹرول کرے، ’ہمارا مقصد القاعدہ کو تباہ کرنا ہے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ جن دہشت گردوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی وہ پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں۔ ’خفیہ ایجنسیوں کے تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ القاعدہ پاکستان کی محفوظ پناہ گاہوں سے امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی بنا رہا ہے اور اگر افغانستان پر طالبان قبضہ کر لیتے ہیں یا القاعدہ کو روکا نہیں جاتا تو یہ ملک ایک بار پھر دہشت گردوں کا گڑھ بن جائے گا جو لامحدود تعداد میں ہمارے عوام کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گرد امریکہ کے ساتھ پاکستان کے بھی دشمن ہیں اور اگر امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کی مدد نہ کی تو ہم دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہار سکتے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے لیے ایک عشاریہ پانچ ارب ڈالر کی سالانہ امداد کا اعلان کیا جو پانچ سال تک جاری رہی گی۔ انہوں نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ اس بل کی منظوری دے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ القاعدہ اور اس کے اتحادی ایک کینسر ہیں اور ان سے لڑنے کے لیے پاکستان حکومت کی مدد ضروری ہے۔ تاہم یہ مدد ایک ’بلینک چیک، نہیں ہو گا‘، پاکستان کو چاہیئے کہ وہ القاعدہ کو خود ختم کرے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں امریکہ کا ساتھ دے۔

صدر اوباما نے کہا کہ القاعدہ کو تباہ کرنے کے لیے پاکستان کو مضبوط کرنا ہو گا۔ ’پاکستان کے عوام بھی وہی چاہتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ نے پاکستان کے عوام کو تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔