سری لنکا: پندرہ باغیوں کی ہلاکت کا دعوٰی

سری لنکا
،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی برادری متاثرہ علاقوں میں پھنسے والے افراد کی تحفظ پر تشویش کا شکار ہیں

سری لنکا کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال میں ہونے والی شدید جھڑپوں میں اب تک 15 تامل باغیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ حکومت کا دعوٰی ہے کہ اس نے باغیوں کو 25 مربع کلومیٹر کے علاقے میں محدود کردیا ہے۔

باغیوں کی حامی ویب سائٹس کے مطابق سری لنکا کی فوج کے آپریشن کے جواب میں تامل ٹائیگرز سخت مزاحمت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ تاہم فریقین کے دعووں کی تصدیق کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

ہزاروں افراد جھڑپوں سے متاثرہ علاقوں میں بستے ہیں جن کی حفاظت کے بارے میں بین الاقوامی طور پر کافی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ نے متاثرہ افراد کو علاقے سے نکلنے کے لیے فریقین سے وقتی طور پر جھڑپیں روکنے کا کہا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ لڑائی میں کسی بھی طرح کی روک تھام کے وقفے کو باغی دوبارہ سے اپنی گروپ بندی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ادھر فسادات سے متاثرہ افراد کو علاقے سے نکالنے والا ایک امدادی بحری جہاز مخالف گروہوں کی فائرنگ کی زد میں آگیا۔

ریڈ کراس کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق یہ بحری جہاز بیمار اور زخمی افراد کو متاثرہ سے نکالنے کاکام کررہا تھا کہ ایک گولی کی زد میں آگیا تاہم گولی سے کسی مشافر یا جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچاہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی امدادی جہاز جھڑپوں کی زد میں آیا ہے۔ سری لنکا میں ریڈ کراس کی ایک ترجمان صوفی رومیننز کا کہنا ہے کہ جہاز اب بھی متاثرہ افراد کے انخلاء کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ متاثرہ علاقے میں تقریباً 500 افراد بیمار یا زخمی ہیں جنہیں بحری جہاز کے ذریعے حکومت کے زیر انتظام علاقوں کے ہسپتال پہنچایا جارہا ہے۔