کیا براؤن ہی جی ٹوئنٹی کے فاتح ہیں؟

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن جی ٹونٹی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں کا استقبال کرتے بہت پرُجوش میزبان نظر آ رہے تھے۔ اور کیوں نہ ہوں ان کے پاس خوش ہونے کی تمام تر وجوہات موجود ہیں۔
بدھ کے روز دنیا بھر سے آئے ہوئے صدور اور وزرائےاعظم ریڈ کارپٹ پر سے چل کر عشائیے میں شرکت کے لیے ڈاؤننگ سٹریٹ آئے۔ امریکی صدر براک اوباما نے تو سب کے سامنے ان پر تعریف کے پھول نچھاور کیے۔
جی ٹوئنٹی سربراہ کانفرنس کے موقع پر اور بھی اہم واقعات رونما ہوئے۔ ان واقعات میں امریکہ اور روس کے مابین اپنے جوہری ہتھیاروں میں کمی کرنے پر بات چیت کرنے پر اتفاق بھی شامل ہے اور جی ٹونٹی سربراہ کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا اس نے ٹین ڈاؤنننگ سٹریٹ کے باسیوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی کیونکہ اس اعلامیے میں عالمی معاشی بحران سے نپٹنے کے لیے دس کھرب ڈالر کی خطیر رقم فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ہو سکتا ہے اس اعلامیے کی تفصیلات پیچیدہ ہوں لیکن جو چیز شہ سرخیوں میں آئے گی وہ کافی پرکشش ہے۔ حتی کہ اجلاس سے پہلے سامنے آنے والے اختلافِ رائے نے جی ٹوئنٹی کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچایا۔
فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کی مطلوبہ مقاصد حاصل نہ کر سکنے کی صورت میں اجلاس سے واک آوٹ کرنے دھمکی نے بھی اجلاس کی دلچسپی میں اضافہ کیا۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ ان کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد مبصرین کو اس بات کی امید رہی کہ ابھی کچھ کام ہونا باقی ہے۔
کنزرویٹو رہنما ڈیوڈ کیمرُون نے بھی جی ٹوئنٹی کی چکا چوند میں سے اس وقت کچھ حصہ وصول کیا جب بدھ کے روز امریکی صدر براک اوباما سے ان کی ایک نجی ملاقات ہوئی۔ لیکن ٹی وی کیمرے پر بار بار وزیر اعظم براؤن امریکی صدر سے بے تکلفی سے گفتگو کرتے نظر آئے۔ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وزیر اعظم براؤن خود کو بہت مزے میں محسوس کرتے ہیں۔
لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی۔ جیسا ہی اجلاس کا شور و ہنگامہ ختم ہو گا لوگوں کی توجہ اس طرف مرکوز ہو گی یہ اجلاس سے حاصل کیا ہوا۔
مسٹر براؤن کے مطابق جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں شریک رہنماؤں کا کام عالمی معیشت کو ’اعتماد کی آکسیجن‘ فراہم کرنا تھا اور اب جلد ہی دنیا بھر کے بازارِ حصص بتائیں گے کہ وہ اس سلسلے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن جہاں تک بات دور رس نتائج کی ہے تو یہ فیصلہ ووٹرز کے ہاتھ میں ہوگا۔ یورپی اور کونسل الیکشن اگر آنے والے چند ماہ میں ہونے والے ہیں تو اگلے برس جون میں عام انتخابات بھی ہو رہے ہیں اور لوگوں کو اپنی رائے عام کرنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔





















