نیٹو کے سربراہی اجلاس پر مظاہرے

تین سو مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے
،تصویر کا کیپشنتین سو مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے

فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں پولیس نے نیٹو مخالف مظاہرین کو شہر کے مرکزی حصے میں جمع ہونے سے روکنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تین سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

نقاب پوش مظاہرین نے اشتعال میں آ کر بس سٹاپوں اور کوڑے دانوں کو نذر آتش کر دیا۔

جمعہ کی رات کو منعقد ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس سے قبل سٹراسبرگ اور جرمنی کی سرحد کے ساتھ سیکیورٹی کو چوکس کر دیا گیا ہے۔

سٹراسبرگ میں پچیس ہزار پولیس والوں کو تعینات کیا گیا ہے جہاں پر دسیوں ہزار مظاہرین کے جمع ہونے کی توقع ہے۔

شہر کے مضافاتی علاقوں میں سکارف اور ہڈ پہنے ہوئے نوجوانوں کی ٹولیاں گھوم رہی تھیں جنہوں نے یہ بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’سٹاربرگ اور لندن میں جبر بند کیا جائے۔‘

بس سٹاپوں کے علاوہ مظاہرین نے گاڑیوں اور دکانوں کو نقصان پہنچایا اور کم از کم ایک سڑک کو روکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا۔

مظاہرین میں شامل ایک شخص نے ایک کھمبا اکھاڑ کر پولیس کی ایک گاڑی کا اگلا شیشہ توڑ دیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک فوٹوگرافر کے پیٹ میں ربڑ کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا اور اس کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔