افغانستان کے لیے نیٹو کی مزید فوجی کمک

نیٹو اتحاد میں شامل ممالک نے افغانستان میں رواں برس ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے لیے مزید فوج بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔
فرانس اور جرمنی کی سرحد پر اسٹراسبرگ شہر میں معاہدۂ شمالی اوقیانوس یا نیٹو کا ساٹھواں سربراہ اجلاس سینیچر کی شام ختم ہوا۔
افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا اعلان اتحاد کے سبکدوش ہونے والے سیکرٹری جنرل ژاپ دی ہوپ شیفر نے سالانہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم افغانستان میں آنے والے انتخابات کے موقع پر مدد کے لیے ضروری افواج روانہ کریں گے‘۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیٹو افغان فوج اور پولیس کو تربیت دینے کے لیے بھی مزید انسٹرکٹر فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اگر افغانستان کی بات کی جائے تو اس اجلاس اور اس اتحاد نے کام کر دکھایا ہے‘۔
اسی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نیٹو کے دیگر ممبران نے افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی حکمتِ عملی کی پرزور اور متفقہ حمایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیٹو اتحاد نئی امریکی پالیسی کے تناظر میں پانچ ہزار فوجی اور تربیتی عملہ افغانستان بھیجے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے افغان صدارتی انتخابات کے لیے تمام وسائل مہیا کردیے ہیں۔ تین ہزار فوجی اتحادیوں کی طرف سے اور تین سو نیم فوجی دستوں کو تربیت دینے والے اور ان کی رہنمائی کرنے والے، نیٹو کے ساتھ چلنے والی افغان قومی فوج کو تربیت اور وسعت دینے والی ستر ٹیمیں، اس افغان قومی فوج کے ٹرسٹ کے لیے دس کروڑ ڈالر کی فوری ادائیگی اور شہری اداروں کی مدد کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی خصوصی امداد اس میں شامل ہے‘۔
یاد رہے کہ جمعہ کو امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ افغانستان میں نیٹو کے ذرائع کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کی طرف سے یورپ کو امریکہ سے بھی زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہے۔
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیٹو اجلاس کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ بڑی تعداد میں ملکوں کے کہا ہے کہ وہ اضافی کمک فراہم کریں گے۔ سپین، ہالینڈ، پرتگال، اٹلی، یونان، پولینڈ، کروشیا اور ترکی بھی اب جرمنی کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں جو پہلے ہی اس قسم کا اعلان کر چکا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ آنے والے چند اہم اور نازک مہینوں میں کام کے بوجھ کا بانٹنا اب ایک حقیقت بن گیا ہے‘۔

نئی کمک کی تفصیل بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے بتایا ہے کہ برطانیہ اور جرمنی نو، نو سو جبکہ سپین چھ سو نئے فوجی افغانستان بھیجےگا جبکہ فرانس اور اٹلی نے بھی تازہ کمک بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس وقت افغانستان میں ستّر ہزار سے زائد غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر نیٹو کی کمان میں ہیں۔ امریکہ افغانستان میں مزید اکیس ہزار فوجی بھیجنے والا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ ان اکیس ہزار کے علاوہ مزید دس ہزار فوجیوں کو افغانستان بھیجنے پر غور بھی کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر نیٹو ممالک نے ڈنمارک کے وزیراعظم آندرے رسمیوسن کو اتحاد کا نیا سیکرٹری جنرل بھی منتخب کر لیا ہے اور وہ اگست سے اس عہدے پر کام شروع کر دیں گے۔ وہ ژاپ دی ہوپ شفر کی جگہ لیں گے جو جولائی کے اواخر میں اپنے عہدے سے دست بردار ہو رہے ہیں۔ ترکی کی مخالفت کی وجہ رسمیوسن کی تقرری کی معاملہ متنازعہ صورت اختیار کر گیا تھا۔
ترکی کی مخالفت کی بنیاد سنہ 2005 میں ڈنمارک کے اخبار میں توہین اسلام پر مبنی پیغمبر اسلام کے شائع کیے جانے والے کارٹونوں پر رسمیوسن کا ردعمل ہے۔ ڈنمارک کے وزیراعظم نے مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل کے باوجود اس اخبار پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا تھا۔






















