’افغان اراکین تشدد سے خوفزدہ‘

بعض نمائندگان اپنے حلقوں میں بھی نہیں جا سکتے
،تصویر کا کیپشنبعض نمائندگان اپنے حلقوں میں بھی نہیں جا سکتے
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنائے جانے کے خوف سے آئندہ انتخابات میں انتخابی امیدواروں کی تعداد میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سن دو ہزار پانچ میں انتحابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پارلیمان کے بعد اب تک افغانستان کے دس اراکین پارلیمنٹ ہلاک ہوچکے ہیں۔

افغانستان کے رکن پارلیمنٹ گل بادشاہ مجید نے اسلام آباد میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی طرف سے اراکین پارلیمنٹ پر حملوں کے باعث عوامی نمائندے خوفزدہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمان آزادانہ طور پر گھوم پھر نہیں سکتے اور بعض منتخب اراکین خوف کے باعث اپنے حلقوں میں بھی جانے سے کتراتے ہیں۔

جماعت ملی اسلامی سے تعلق رکھنے والے گل بادشاہ مجید کاخیال ہے کہ طالبان کی طرف سے کاروائیوں میں اضافے، اراکین پارلیمان پر حملوں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت کے باعث اگست میں ہونے والے عام انتخابات میں امیدواروں کی تعداد دو ہزار پانچ کے انتخابات کی نسبت کم ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار پانچ کے انتخابات کے دوران سیکیورٹی کی صورت حال بہتر تھی جس کی وجہ سے زیادہ امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار پانچ کے بعد اس عرصے کے دوران سیکیورٹی کی صورت حال بہت خراب ہوگئی ہے اور یہ کہ غیر ملکی فوج، سرکاری اہلکاروں اور اراکین پارلیمنٹ پر طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سن دو ہزار پانچ میں افغانستان کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی دو سو انچاس اراکین پر مشتمل پارلیمنٹ کے قیام کے بعد اب تک مختلف حملوں میں دس اراکین پارلیمنٹ ہلاک ہوچکے ہیں۔

تشدد کی وجہ سے عام آدمی بھی متاثر ہے
،تصویر کا کیپشنتشدد کی وجہ سے عام آدمی بھی متاثر ہے

گزشتہ سال افغانستان کے صدر حامد کرزائی پر بھی ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں محفوظ رہے۔ ان میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔

امریکی اور افغان حکام یہ مانتے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں طالبان کی طرف سے حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

گل مجید جن کا تعلق افغانستان کے علاقے پکتیا سے ہے ان اکیس اراکین پارلیمنٹ میں شامل ہیں جو جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی تنظیم ساوتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاک افغان دو روزہ مذاکرے میں شرکت کررہے ہیں۔

منگل سے شروع ہونے دو روزہ کانفرنس میں افغانستان اور پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ، دانشور اور ماہرین اور صحافی شرکت کررہے ہیں۔

گل مجید کا کہنا ہے کہ طالبان افغان ہیں اور یہ کہ وہ اس حق میں ہیں کے امن کے قیام کے لئے غیر مشروط طور پر طالبان کے ساتھ بات چیت کی جائے اور ان کے معقول مطالبات کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور ان کو حکومت میں بھی نمائندگی دی جانی چاہیے۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے اراکین پارلیمان کے درمیان اہم معاملات پر بامعنی، موثر اور مستقل باہمی صلاح مشورے کے لئے پارلیمانی جرگہ یا مشترکہ پارلیمانی کمیشن کے قیام کی تجویز دی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کی گلیوں نے بہت خون دیکھا اور اب یہ مفاہمت کا وقت ہے۔