برطانیہ: پاکستانی طلباء سمیت بارہ گرفتار

 انٹرنیٹ کیفے
،تصویر کا کیپشنچِیتھم ہِل کے علاقے میں ایک انٹرنیٹ کیفے پر بھی چھاپہ مارا گیا

برطانوی پولیس نے انسدادِ دہشتگردی کے ایک بڑے آپریشن میں دس پاکستانی طلباء سمیت بارہ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ برطانیہ کے محکمۂ انسدادِ دہشتگردی کے سینئر ترین افسر نے اس آپریشن سے متعلق خفیہ معلومات افشاء ہونے کے بعد استعفٰی دے دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں انگلینڈ کے شہروں لِیورپول اور مانچسٹر میں آٹھ مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران عمل میں آئیں۔گرفتار ہونے والوں میں سب سے کم عمر بیس سے کم کا نوجوان ہے جبکہ سب سے بڑے کی عمر اکتالیس سال بتائی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدھ کو کیا جانے والا یہ آپریشن ایک خفیہ دستاویز کے سامنے آ جانے کے بعد مقررہ وقت سے قبل کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر باب کوئیک نے وزیراعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ آتے ہوئے خفیہ دستاویز نادانستہ طور پر فوٹوگرافروں کے سامنے ظاہر کر دی تھی۔ اس دستاویز پر واضح الفاظ میں ’سیکرٹ‘ لکھا ہوا تھا اور اس میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔

کمشنر کے ہاتھ میں موجود دستاویز پر لفظ ’سیکرٹ‘ تحریر تھا
،تصویر کا کیپشنکمشنر کے ہاتھ میں موجود دستاویز پر لفظ ’سیکرٹ‘ تحریر تھا

اس غفلت پر باب کوئیک کو اپوزیشن کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور جمعرات کو انہوں نے اس غفلت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ پر بدھ کی صبح ہونے والے واقعے کے چندگھنٹے بعد دو افراد کو لِیورپول میں جان مُور یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔ وہاں موجود دیگر طلباء کے مطابق انہوں نے پولیس افسروں کو دو مشبتہ افراد پر چیختے ہوئے سنا اور بعد میں انہوں نے ان افراد کو منہ کے بل اوندھے زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہیں لائبریری کے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر کے خبردار کیا گیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے لائبریری کی کھڑکیوں سے دور رہیں۔ایک طالب علم کے مطابق ’وہاں ہر کوئی پریشانی کے عالم میں تھا۔ پولیس نے دو غیر ملکی نظر آنے والے لڑکوں کو زمین پر لٹایا ہوا تھا اور ان کی بندوقوں کا رخ ان کی سروں کی طرف تھا‘۔

مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ گرفتاریوں کے لیے ہونے والے آپریشن میں مسلح افسروں سمیت سینکڑوں اہلکاروں نے حصہ لیا اور آپریشن کے دوران مانچسٹر کے چِیتھم ہِل کے علاقے میں ایک انٹرنیٹ کیفے سمیت چار مقامات کی تلاشی لی گئی ہے۔ اسی طرح مرسی سائیڈ میں تین مقامات اور لنکا شائر میں ایک گیسٹ ہاؤس پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔

برطانوی وزیر داخلہ جیکی سمتھ نے پولیس کی دہشت گردی کے خلاف پیشہ ورانہ اور کامیاب آپریشن پر تعریف کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ان اقدامات کے بارے میں فیصلہ کرنے پولیس اور سکیورٹی سروس کا کام ہے لیکن وزیر اعظم اور مجھے اس بارے میں مکمل طور پر آگاہ رکھا گیا ہے۔