شمالی کوریا: نگران ملک سے نکل جائیں

جوہری پلانٹ
،تصویر کا کیپشنیونگ بیون نے کہا ہے کہ نگران ری ایکٹر سے تمام تنصیبات ہٹا دیں

شمالی کوریا کے مصنوعی سیارے کے تجربے کی اقوام متحدہ کی جانب سے مذمت کے بعد کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اب شمالی کوریا نے ملک میں موجود جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے نگرانوں کو نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔ جبکہ امریکہ نے اس اعلان کو غلط سمت میں اٹھایا گیا اشتعال انگیز قدم قرار دیا ہے۔

ویانا سے بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق عالمی ادارے کو شمالی کوریا نے ہر طرح کا تعاون ختم کرنے کے فیصلےسے مطلع کر دیا ہے اور ادارے کے نگرانوں سے کہا ہے کہ وہ یونگ بیون کے ایٹمی ری ایکٹر سے تمام آلات اور کیمرے ہٹا دیں۔ ادارے کے مطابق شمالی کوریا نے اسے ایٹمی ہتھیاروں کے لیے درکار انتہائی افزودہ پلوٹونیم بنانے والے ری پروسسنگ پلانٹ سمیت تمام جوہری تنصیبات کو دوبارہ سے چلانے کے فیصلے سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔

ادارے کے مطابق شمالی کوریا نے کہا ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے نگران ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔

شمالی کوریا کو اس بات پر غصہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے اس کی مواصلاتی سیٹیلائیٹ کو خلا میں بھیجے جانے کے تجربے کی مذمت کی ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے شمالی کوریا کے اقدامات کو اشتعال انگیز اور غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا کے اقدامات کی مذمت کی ہے

شمالی کوریا کے ان اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ ’ہم اس کو خدشات کا اظہار کرنے والے سلامتی کونسل کے ایک قطعی جائز بیان کے بالکل غیرضروری جواب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ ان معاملات کو نہ صرف ہمیں اپنے دوستوں بلکہ بالآخر شمالی کوریا کے ساتھ زیربحث کانے کا موقع بھی ملے گا۔‘

بعض ماہرین کے خیال میں اوباما انتظامیہ کو شمالی کوریا کے اتنے سخت ردعمل کی امید نہیں تھی۔ دراصل مذمت سے آگے بڑھ کر امریکہ کے پاس کچھ کرنے کے مواقع محدود ہی ہیں۔ گو امریکہ کسی حد تک روس اور چین کی حمایت پر بھروسہ کرسکتا ہے لیکن چین کو شمالی کوریا میں داخلی استحکام کی بھی فکر ہے کیونکہ اس کی سرحدیں شمالی کوریا سے ملتی ہیں۔ خود امریکہ بھی شمالی کوریا کو واپس مذاکرات کی میز پر دیکھنا چاہتا ہے لیکن ایسے میں اہم سوال یہ بھی ہے کہ تنہائی پسند شمالی کوریا بھی کیا واقعی ایسا چاہتا ہے یا نہیں۔