امریکہ کی اقتصادی بحالی صبر کی متقاضی

اوباما کی پریس کانفرنس کا محور امریکہ کی اقتصادی صورت حال ہی رہا
،تصویر کا کیپشناوباما کی پریس کانفرنس کا محور امریکہ کی اقتصادی صورت حال ہی رہا

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان حکومت کی طرف سے اقتصادی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات بارآور ثابت ہوں گے تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں وقت لگے گا اور اس کے لیے صبر کی ضرورت ہے۔

وایٹ ہاؤس میں ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس پریس کانفرنس میں صدر اوباما نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ہر محاذ پر مسائل کا مقابلہ کرے گی اور کچھ شعبوں میں بہتری کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں زیادہ تر سوالات امریکہ کی اقتصادی حالت اور نئی انتظامیہ کی طرف سے اس کی بہتری کے لیے کیئے جانے والے اقدامات کے بارے میں تھے تاہم صدر اوباما سے مشرق وسطی کی صورت حال اور سٹم سیل کی تحقیقات جیسے متنازع مسائل پر بھی سوالات کئے گئے۔

مشرق وسطی کی صورت حال کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نےکہا کہ ایک بات تو طے ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ جوں کا توں نہیں رہ سکتا اور اسے حل ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے دو یاستی حل کو آگے بڑھانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسا حل جہاں اسرائیلی اور فلسطینی امن اور تحفظ سے اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستوں میں رہ سکیں۔

اسرائیل میں لیکود پارٹی کی مخلوط حکومت بننے سے مسئلہ کے حل میں ممکنہ سیاسی مشکلات کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ اتنا آسان نہیں رہا جتنا پہلے تھا لیکن اس کا حل ہونا اب بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے انہوں نے اقتدار میں آتے ہی جارج میچل جیسے تجربہ کار مصالحت کار کو مشرق وسطی کا ایلچی مقرر کیا۔

صدر اوباما نے ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نےایران کے عوام کے لیے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایران فوری طور پر اپنا جوہری پروگرام اور دہشت گردوں کی مالی امداد بند کرنے کا اعلان نہیں کرے گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ انہیں اس کی توقع بھی نہیں تھی کہ ایک رات میں ہی ایران سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان معاملات پر بتدریج پیش رفت ہو گی۔

بجٹ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیا بجٹ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے، فوری طور پر روزگار کے نئے مواقعے پیدا کرنے، ہاؤسنگ مارکیٹ کو بحال کرنے اور بینک کو قرضوں کے دوبارہ اجراء کےقابل بنانے کے مقاصد کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے۔

مبصرین نےصدر اوباما کی پریس کانفرنس کا سابق صدر بش کی تقریروں اور پریس کانفرنسوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پریس کانفرنس میں ایک مرتبہ بھی صدر اوباما نے دہشت گردی اور القاعدہ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔