’سی آئی اے کی حفاظت کروں گا‘

امریکی صدر براک اوباما نے خفیہ ادارے سی آئی اے یا سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے صدر دفتر کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ ملک کی حفاظت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ریاست ورجینیا کے علاقے لینگلی میں واقع سی آئی اے کے ہیڈکوارٹرز میں عملے سے خطاب میں انہوں نے بش انتظامیہ کے دور میں مشتبہ دہشگردوں کے ساتھ کیے گئے سلوک سے متعلق دستاویزات کے اجراء کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اہلکاروں کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سی آئی اے کی بالکل اسی طرح سے حفاظت کریں گے جس طرح اس ایجنسی نے امریکہ کی حفاظت کی ہے۔
اختتام ہفتہ پر جاری کیے گئے خفیہ کاغذات کے مطابق القاعدہ کے دو مبینہ ارکان پر تشدد کا انتہائی سنگین طریقہ ’واٹر بورڈنگ‘ آزمایا گیا تھا۔ واٹر بورڈنگ کے عمل سے گزرنے والے شخص کو پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوجانے کا شدید احساس ہوتا ہے۔
بش انتظامیہ پر الزام ہے کہ اس نے دہشتگردی کے شبہ میں پکڑے جانے والے بعض افراد سے معلومات حاصل کرنے کے لیے تفتیش کے شدید ترین طریقے آزمانے کی اجازت دے رکھی تھی۔
بش دور کی ان یادداشتوں کے مطابق خالد شیخ محمد پر واٹر بورڈنگ کا طریقہ ایک ماہ کے دوران ایک اسّی بار آزمایا گیا۔ خالد شیخ پر گیارہ ستمبر دوہزار ایک کو امریکہ پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔ القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار ایک اور شخص ابو زبیدہ پر یہ طریقہ تیراسی مرتبہ آزمایا گیا۔
صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو لوگ کسی اصول اور ضابطے کے پابند نہیں ہوتے ان سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے مگر امریکہ کو اعلیٰ اخلاقی اقدار پر کاربند رہنا چاہئے۔
وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تفتیش کے ان طریقے کے سلسلے میں سی آئی اے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
تاہم ناقدین ان طریقوں کو ایذا رسانی کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ سی آئی اے کے ایک سابق سربراہ مائیکل ہیڈن کہتے ہیں کہ ان طریقوں کے نتیجے میں امریکہ اب زیادہ محفوظ ہے۔
سابق امریکی نائب صدر ڈِک چینی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سی آئی سے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ اب وہ ان خفیہ یادداشتوں کو بھی ظاہر کر دے جن سے امریکی عوام کو پتہ چلے کہ ان طریقوں کے آزمانے سے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
صدر براک اوبامانے سی آئی اے کے عملے سے خطاب میں کہا کہ ان کے پاس ان دستاویزات کی اشاعت کا حکم دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ ان طریقوں کو تشدد سمجھتے ہیں اور صدر بننے کے بعد انہوں نے ان طریقوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ اس بات سے ہمت نہ ہاریں کہ ہم سے ممکنہ طور پر غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہم اسی طرح سے سیکھتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم انہیں تسلیم کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ مجھے اسی لیے امریکہ کا صدر ہونے پر فخر ہے۔ اور آپ کو بھی اسی لیے سی آئی اے کا کارکن ہونے پر فخر ہونا چاہیے۔‘
صدر اوباما نے سی آئی اے کے عملے کی ’قربانیوں‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ کہ کامیابی بالعموم پوشیدہ ہوتی ہے مگر ناکامی کی صورت میں سرعام الزام لگتا ہے۔






















