مشرق وسطی: اوباما کی دعوت

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں قیام امن کی کوششوں کو نئی توانائی کے ساتھ شروع کرنے کی غرض سے اسرائیلی، مصری اور فلسطینی راہنماؤں کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نتنیاہو، مصری صدر حسنی مبارک اور فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کو ممکنہ طور پر جون میں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی گئی ہے۔
خطے میں تصادم اور اختلاف کی وجہ سے قیام امن کا عمل رک چکا ہے جسے صدر اوباما شروع کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی ایوان صدر کے ترجمان رابرٹ گِبس کا کہنا ہے کہ یہ دورے براک اوباما کے دورۂ فرانس سے پہلے ہونے کا امکان ہے۔ صدر اوباما چھ جون کو پیرس جائیں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا ’ان میں سے ہر راہنما کے ساتھ صدر امریکی شراکت کو مضبوط اور گہرا کرنے کے طریقوں پر بات کریں گے۔ اس پر بھی بات ہوگی کہ فریقین اسرائیل اور فلسطین، اور اسرائیل اور عرب ملکوں کے بیچ امن کیسے لا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ دعوت صدر اوباما کے اردن کے شاہ عبداللہ دوئم سے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد دی گئی ہے۔
مشرقِ وسطی کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جارج میچل خطے کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔
شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا تھا کہ قیام امن کے سلسلے میں ’خاصی بیزاری‘ پائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ مسئلے کا دو ریاستی حل چاہتا ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین امن کے ساتھ رہیں۔






















