دہشت گردوں کے ماہر جنرل

- مصنف, فراز ہاشمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
افغانستان میں امریکی فوجی آپریشن کی کمان کے لیےایک ایسے جنرل کا انتخاب کیا گیا ہے جن کی امریکی فوج میں تینتس برس پر محیط سروس زیادہ تر ’کلاسیفائڈ‘ یا خفیہ کارروائیوں کے ضمرے میں آتی ہے اور خاص طور پر سن دو ہزار تین سے سن دو ہزار آٹھ تک کے پانچ سال جو انہوں نے عراق میں سپیشل آپریشن کمانڈ کی کمان کرتے ہوئے گزارے۔
عراق میں تعینات جوائنٹ سپیشل آپریشن کمانڈ امریکی فوج کا ایک ایسا ’ایلٹ یونٹ‘ تھا جس کے بارے میں مکمل رازداری سے کام لیا جاتا رہا اورامریکہ کا محکمہ دفاع پینٹاگن کئی سال تک کسی ایسے یونٹ کی عراق میں موجودگی سے ہی انکار کرتا رہا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نےامریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے چند سابق افسران کے حوالے سے لکھا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل سٹینلے اے میکرسٹل ان اعلی اہلکاروں میں شامل تھے جو مبینہ طور پر پاکستان کے قبائل علاقوں میں موجود اسامہ بن لادن کے دست راست ایمن الظواہری کو خفیہ آپریشن کرکے اٹھانے کے حامی تھے۔ سی آئی اے نے یہ منصوبہ سن دو ہزار پانچ میں تجویز کیا تھا اور لیفٹیننٹ جنرل سٹینلے اے میکرسٹل اس پر عمل درآمد کے لیے زور لگاتے رہے۔
اخبار کے مطابق اس وقت کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے اس منصوبے کو انتہائی ’رسکی‘ یا خطرناک اور غیر مصدقہ خفیہ اطلاعات پر مبنی قرار دے کر آخری لمحات پر مسترد کر دیا تھا۔
سابق سی آئی اے کے افسران نے اخبار کو بتایا کہ جنرل میکرسٹل وزیر دفاع کےاس فیصلے پر انتہائی برانگیختہ ہوئے۔
جنرل میکرسٹل نے سن دو ہزار تین میں عراق میں جوائنٹ سپیشل آپریشن کمانڈ کی کمان سنبھالی۔ اگلے پانچ برس میں انہوں نے اس کمانڈو یونٹ کو نہ صرف ایک مربوط فورس بنایا بلکہ سی آئی اے اور ایف بی آئی سے اس کے قریبی تعلقات اور ان کی کارراوئیوں میں تعاون بڑھانے کے لیے شعوری کوششیں کئیں۔ جنرل میکرسٹل کی ان کاوشوں کو سی آئی آے کے ان افسران نے بہت سراہا جن کے عراق میں سرگرم فوجی کمانڈروں سے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔
عراق میں جوائنٹ سپشیل کمانڈ کی زیادہ تر کارروائیاں رات کے اندھیرے میں کی جاتی تھیں لیکن جنرل میکرسٹل اس کے باوجود دن بھر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہتے تھے جس وجہ سے ان کے ساتھی انہیں ’ورکوہولک‘ یا انتہائی مخنتی کہنے لگے۔اسی دوران انہوں نے دہشت گردوں کے ماہر کے طور بھی شہرت حاصل کی۔
جنرل میکرسٹل چودہ اگست انیس سو چون کو ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میجر جنرل ہربرٹ جے میکرسٹل جونیئر امریکی فوج کے لیے دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پینٹاگون میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل میکرسٹل چار بھائیوں اور ایک بہن میں چوتھے نمبر پر ہیں اور یہ سب بھائی اور بہن فوج میں بھرتی ہوئے۔
جنرل میکرسٹل نے ویسٹ پوائنٹ سے انیس سو چھہتر میں گریجویشن کیا اور اس کے بعد تین دہائیوں پر پھیلے ہوئے اپنے فوجی کیریئر کے دوران وہ مختلف فوجی اور خفیہ کارروائیوں کا حصہ رہے اسی دوران انہوں نے ہاورڈ اور کونسل اور فارن ریلیشن میں بھی خدمات انجام دیں۔
جنرل میکرسٹل کے شاندار فوجی کریئر پر صرف ایک داغ ہے جو افغانستان میں ہلاک ہونے والے ایک فوجی کا نام غلط معلومات کی بنیاد پر ’سلور سٹار‘ فوجی اعزاز کے لیے نامزد کرنے کی وجہ سے لگا۔
پینٹاگن کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ جنرل میکرسٹل نے اپنے ہی ساتھی کی گولی کا نشانہ بننے والے کارپورل ٹل مین کا نام غلط معلومات فراہم کرکے ’سلور سٹاڑ‘ کے اعزاز کے لیے تجویز کیا تھا۔
جوائنٹ سٹاف پینٹاگن میں جہاں جنرل میکرسٹل ایک ہزار دو سو افسران پر مشتمل ایک گروپ کی سربراہی کرتے ہیں۔ انہوں نے روزانہ صبح ساڑھے چھ بجے بریفنگ کا رواج ڈالا جس میں پچیس اعلی ترین فوجی افسران کو آدھے گھنٹے میں دنیا بھر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور سرگرمیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مائیک مولن نے گزشتہ سال اگست میں جنرل میکرسٹل کو واشنگٹن بلایا تھا ۔
جنرل میکرسٹل کونسل آن فارن ریلیشن میں سن دو ہزار میں تعیناتی کے دوران اپنے گھر سے دفتر تک بارہ میل سے زیادہ کا سفر بھاگ کر طے کرتے تھے۔ وہ دن بھر چاک وچوبند رہنے کے لیے صرف ایک وقت کھانا کھاتے ہیں۔







