’افغان شہری ہلاک ہوئے‘

حملوں میں عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے
،تصویر کا کیپشنحملوں میں عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے

امریکہ، افعان مشترکہ انکوائری کے مطابق افغانستان کے صوبہ فرح میں حالیہ جھڑپوں اور امریکی فضائی حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم ابتدائی بیان میں شہری ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ اس مسئلہ پر افغان حکومت اور امریکی فوج میں تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ان تازہ امریکی فضائی حملوں میں یقینی طور پر سو سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں۔

تاہم امریکی فوج نے اس سے قبل ان اعداد و شمار کو حقیقت سے تجاوز قرار دیا تھا۔

انکوائری ٹیم نے فرح صوبے میں قبرستان کا دورہ کیا ہے اور تفتیش ابھی جاری ہے۔

تحقیق کاروں نے کہا ’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تصدیق کرتی ہے کہ اس لڑائی میں کئی شہری مارے گئے ہیں۔ تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہلاک ہونے والوں میں کون طالبان تھے اور کون عام لوگ تھے کیونکہ تمام کو دفنایا جا چکا ہے‘۔

انکوائری ٹیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ طالبان جنگجوؤں نے شہریوں کو ان کے گھروں میں زبردستی روک لیا تھا تاکہ وہ وہاں سے اتحادی فوج پر حملے کر سکیں۔

افغان حکومت اور صدر حامد کرزئی امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ جمعہ کے روز واشنگٹن میں صدر کرزئی نے کہا تھا کہ امریکہ کو ان کے ملک پر فضائی حملے بند کر دینے چاہئیں۔