کروڑوں برس پرانے فوسِل کی دریافت

یہ فوسِل سینتالیس ملین برس پرانا ہے
،تصویر کا کیپشنیہ فوسِل سینتالیس ملین برس پرانا ہے

سینتالیس ملین برس پرانے ایک فوسل کی دریافت کو سائنسدان ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں اور وہ اس ڈھانچے کو ارتقا کی ’مِسنگ لِنک‘ یعنی اب تک ’نا معلوم کڑی‘ بتا رہے ہیں۔

منگل انیس مئی کو نیو یارک کے امریکن میوزیم آف نیچرل ہِسٹری میں اس فوسل کو بڑے دھوم دھام سے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ ڈھانچے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبور نما جانور کا قد تقریباً دو فٹ تھا ، اس کی لبمی سی دُم تھی اور اس کے ہاتھوں پر انگوٹھے اور پنجے نہیں بلکہ ناخن تھے۔

سائنسدانوں نے اس فوسل کا نام ’ڈاروِنیئس میسِلائی‘ رکھا ہے لیکن اس کو ’آئڈا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ فوسل اسی کی دہائی میں جرمنی میں ملا تھا لیکن کافی عرصے سے یہ کسی کے نجی ملکیت کا حصہ تھا او اس پر سائنسدان کام نہیں کر سکے۔ اس کو کچھ دیر پہلے جوڑا گیا اور اب تحقیق کے بعد سائنسدان اسے ایک اہم دریافت قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئڈا لمبوروں سے الگ نسل ہے اور اس کی بہت سی چیزیں انسانوں سےمشابہ ہیں۔ ارتقا کے حوالے سے اس ڈھانچے کی اہمیت پر زور دینے والے سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کے ابا و اجداد میں سے ہے اور یہ ارتقا کے عمل میں بندروں سے انسانوں تک کے مرحلے کی اہم کڑی ہے۔

تاہم سینتالیس ملین یعنی تقریباً پونے پانچ کروڑ برس پرانے اس فوسل کی اہمیت پر کچھ ماہرین کو اختلافات ہیں۔ کئی سائنسدانوں نے اس فوسل کے بارے میں منظم تشہیری مہم پر تنقید کرتے ہوئے اس کی اہمیت پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ناروے کے یورن ہوروم اس پر تحقیق کرنے والی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آئڈا انسانوں کہ قریبی آبا میں شامل ہے۔ لیکن جریدہ ’نیچر‘ کے ڈاکٹر ہنری جی کا کہنا ہے کہ آئڈا کو ارتقا کا مِسنگ لِنک یا نا معلوم کڑی کہنا گمراہ کن ہے کیونکہ یہ دریافت دلچسپ ضرور ہے لیکن اتنی حیران کن یا سنسی خیز نہیں جتنا اسے بیان کیا جا رہا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے یورن ہوروم
،تصویر کا کیپشنتحقیقاتی ٹیم کے یورن ہوروم

لیکن ڈاکٹر ہوروم کہتے ہیں کہ یہ ایک تاریخی دریافت ہے کیونکہ پنجوں کی بجائے اس جانور کے ناخن ہونے کے علاوہ اس کے دانت آثار قدیمہ کے جانوروں سے بہت مختلف اور پاؤں آدم نما ہیں۔