فرانس: ’تلاش جاری رہے گی‘

فرانس کے وزیر دفاع ایروے موران نے کہا ہے کہ بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کے دوران لاپتہ ہونے والے طیارے کی تلاش جب تک ضروری ہوگا جاری رکھی جائے گا۔
فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کے ایک جاسوسی طیارے نے ائر فرانس کے لاپتہ ہونے والے طیارے کے متوقع راستے پر سفر کیا ہے لیکن اس کے بارے میں مزید کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں موسم انتہائی خراب تھا۔
ائر فرانس کی ائر بس ریو دی جنیرو سے پیرس جاتے ہوئے سمندر کے اوپر راڈار سے غائب ہو گئی تھی۔ اس جہاز کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح نو بجکر دس منٹ پر فرانس پہنچنا تھا۔
فلائٹ اے ایف 447 مقامی وقت کے مطابق اتوار کی شام سات بجے برازیل سے روانہ ہوئی اور اس میں دو سو سولہ مسافر اور عملے کے بارہ ارکان موجود تھے جن میں تین پائلٹ بھی ہیں۔
جہاز سے اس کے لاپتہ ہونے سے کچھ دیر قبل خراب موسم اور برقیاتی نظام میں خرابی کی شکایت کی گئی تھی۔فرانس میں حکام کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ جہاز کے کسی بھی مسافر کے زندہ بچنے کی امید بہت کم ہے۔
برازیل کے حکام ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایک اور مسافر طیارے کے عملے نے سمندر میں کچھ ’چمکدار‘ اشیاء دیکھی ہیں۔

دریں اثناء فرانس، ہسپانیہ، سینیگال اور برازیل کی کشتیاں ائر فرانس کے طیارے کی تلاش کی کوششوں میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ امریکہ نے جاسوس سیٹلائٹ نیٹ ورک کی مدد کی پیش کش کی ہے۔
ایئر فرانس کے حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہو جانے والے طیارے کے مسافروں میں زیادہ تر فرانس اور برازیل کے شہری تھے۔ حکام کے مطابق طیارے کےمسافروں میں سے اکسٹھ کا تعلق فرانس سے تھا جبکہ اٹھاون برازیل کے شہری تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف برازیل کے حکام کی طرف سے جاری کی جانے والی مسافروں کی فہرست میں چھبیس جرمن اور بالترتیب نو نو چینی اور اطالوی شہری شامل ہیں۔ اس فہرست میں چھ سوئس شہریوں، پانچ برطانوی، پانچ لبنانی اور چار ہنگری کے شہریوں کے نام بھی شامل ہیں۔
دیگر جن ملکوں کے شہری اس مسافر طیارے میں سوار تھے ان میں آئرلینڈ، ناروے، سلواکیہ، امریکہ، مراکش، ارجنٹائن، آسٹریا، بیلجیئم، کینیڈا، کروایشیا، ڈنمارک، ہالینڈ، ایسٹونیا، فلپائن، گیمبیا، آئس لینڈ، رومانیہ، روس، جنوبی افریقہ، سویڈن اور ترکی شامل ہیں۔
ایئر فرانس کے مطابق گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح دو بجکر چودہ منٹ پر جہاز نے خود کار نظام کے تحت ایک پیغام بھیجا تھا کہ پرواز ناہموار ہونے کے بعد جہاز کے شارٹ سرکٹ میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔
فرانس میں چارلس دی گال ائیرپورٹ کا کہنا ہے کہ برزایل کے دارالحکومت ریئو دی جینیرو کے حکام کے جہاز کے ساتھ رابطہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجے ختم ہوگیا۔
فرانس میں چارلس دی گال ائرپورٹ پر ایک ہنگامی مرکز قائم کر دیا گیا ہے اور کئی جہاز بحرِ اوقیانوس کی طرف روانہ کیے گئے ہیں جو گمشدہ جہاز کی تلاش کر رہے ہیں۔




















