ایرانی انتخابات کون جیتے گا ؟

حسین موسوی
،تصویر کا کیپشنسابق وزیر ا عظم حسین موسوی صدر احمدی نژاد کے اصل حریف کے طور پر ابھرے ہیں
    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تہران

ایران کے دسویں صدارتی انتخابات میں اس وقت سب سے بڑا موضوع عوام کی اقتصادی حالت ہے۔ تاہم جوہری پروگرام اور مغرب بالخصوص امریکہ، سے تعلقات بھی صدارتی امیدواروں کی تقریروں میں شامل نظر آ رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے قاہرہ میں عالم اسلام سے امریکی تعلقات پر نئی حکمت عملی والی تقریر پر ایران میں سرکاری طور پر اب تک ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

ایران کے صدارتی اتخابات میں جو اہم نعرے مختلف امیدواروں کی مہموں کا حصہ بنے ہوئے ہیں ان میں ’قانون کی حکمرانی‘، ’عدل اور آزادی والا ترقی پسند ایران‘، ’اقتصادی انقلاب‘ اور ’سیاسی اصلاحات‘ شامل ہیں۔

ایران کے دسویں صدارتی انتخابات ایک ایسے برس ہو رہے ہیں جب نہ صرف ایرانی عوام اسلامی انقلاب کی تیسویں سالگرہ منا رہے ہیں بلکہ اسی انقلاب سے متعلق بنیادی سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔

جہاں انقلاب کے مخالفین ایران کی ناکام اقتصادی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی افادیت کو چیلنج کر رہے ہیں تو وہیں انقلاب کے حامی اقتصادی پالیسوں کی ناکامی کی ذمہ داری ’انقلاب کے بنیادی اصولوں سےانحراف‘ کو قرار دے رہے ہیں۔

دسویں صدارتی انتخابات میں جو موضوع اس وقت ووٹرز کو متاثر کرتا نظر آرہا ہے وہ ہے مہنگائی، بے روزگاری اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی۔

صدر محمود احمدی نژاد نے مغرب سے کھلی ٹکر لے کر بین الاقوامی سطح پر مغرب مخالف حلقوں میں اپنی مقبولیت ضرور بڑھائی ہوگی مگر اس مقبولیت کا انہیں زیادہ فائدہ اپنے عوام کی حمایت میں اضافے کی صورت میں ملتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ البتہ انہیں دوسرے امیدواروں پر کرشماتی شخصیت ہونے کا فائدہ ضرور حاصل ہے۔ خود محمود احمدی نژاد بھی بے روزگاری کے خاتمے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے نت نئی پالیسیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔

محمود احمدی نژاد کےمد مقابل امیدواروں میں سے سب سے زیادہ طاقتور میر حسین موسوی ہیں جو ایران کے انقلاب کے بعد 1981 سے لیکر 1989 ایران کے وزیراعظم رہے ہیں۔

میر حسین موسوی نے ایرانی معیشت کی زبوں حالی کو اپنی انتخابی مہم کو بنیادی نقطہ بنا کر احمدی نژاد کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔دوسرے دو صدارتی امیدواروں میں مہدی کروبی اور محسن رضائی ہیں۔

محسن رضائی
،تصویر کا کیپشنمحسن رضائی انقلابی گارڈز کے سربراہ رہ چکے ہیں

مہدی کروبی ایرانی پارلیمان کے سپیکر رہ چکے ہیں جبکہ محسن رضائی انقلابی گارڈز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اگرچہ ایرانی میڈیا اپنی پالیسی کے مطابق چاروں امیدواروں کو برابر کی کوریج دے رہا ہے مگر نظر کچھ ایسا آ رہا ہے کہ اصل مقابلہ صدر محمود احمدی نژاد اور میر حسین موسوی کے درمیان ہے۔

میر حسین موسوی ایران میں اقتصادی میدان میں عدم مساوات کو مہم کا حصہ بنا کر دولت کی بہتر تقیسم پر تقریریں کر رہے ہیں۔اگرچہ موسوی اپنے دور میں ترقی پذیر پالیسیوں کے داعی رہے ہیں۔ تاہم اب وہ ایک نظرثانی شدہ ترقی پسند کی طرح نجکاری کے کردار کی ضرورت پر بھی زور دے رہے ہیں۔

موجودہ انتخابی مہم کئی لحاظ سے ایران کی سیاسی تاریخ میں اہم مقام حاصل کرتی نظر آ رہی ہے۔ مثلاً یہ کہ پہلی مرتبہ امیدواروں کے درمیان ٹیلی ویژن پر مباحثے ہو رہے ہیں۔ ایران میں اب تک امیدوار کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ اپنے مد مقابل کے خلاف الزام تراشی سے باز رہے جس کے نتیجے میں وہ مجبور ہوتا تھا کہ صرف اپنی کارگزاری یا اپنا پروگرام ہی پیش کرے۔

مگر اس مرتبہ انتخابات میں مغرب جمہوریتوں کی طرح ایران میں امیدوار ایک دوسرے کے خلاف سخت الزامات اور سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً احمدی نژاد نے میر حسین موسوی سے مباحثے کے دوران موسوی کے حامی سابق صدر محمد خاتمی اور سابق صدر ہاشمی رفسنجانی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سولہ سالہ دور میں ایرانی عوام کی حالت تو نہ سدھری تاہم ان سابق صدور کی اولادیں ارب پتی بن گئیں۔

اس کے جواب میں احمدی نژاد پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ ان کی بدانتظامی کی وجہ سے ایران نے تیل کی بہت زیادہ قیمتوں سے جو منافع حاصل کیا تھا وہ سارے کا سارا ضائع ہوگیا۔ اسی پس منظر میں ایران میں اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ایران نے فلسطینیوں سے لے کر دوسرے بین الاقوامی تنازعات میں اپنے آپ کو حد سے زیادہ کیوں پھنسایا ہوا ہے۔ مثلاً میر حسین موسوی کے حامیوں نے کہا ہے کہ جب آپ کے اپنے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے تو پہلے آپ اپنے گھر کو بچائیں۔

مہدی کروبی
،تصویر کا کیپشنمہدی کروبی ایرانی پارلیمان کے سپیکر رہ چکے ہیں

میر حسین موسوی کے حامیوں میں اس وقت ہاشمی رفسنجانی اور محمد خاتمی سمیت دوسرے لوگوں نے احمدی نژاد کے خلاف انتخابی مہم میں کہہ رہے ہیں کہ پچھلے صدور کےدور میں ایران کی تیل کی کل آمدن اسی ارب ڈالرز ہوئی تھی جبکہ احمدی نژاد کے چار برس کے دور سے ایران کی تیل کی برآمدات سے آمدن دو سو اسی ارب ڈالرہوئی۔سابق صدور احمدی نژاد حکومت پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اس آمدن کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔

ایران کی آبادی کا ستر فیصد حصہ تیس برس کی عمر سے کم کا ہے اور چھبیس فیصد حصہ پندرہ برس کی عمر سے کم کا ہے۔ یہ انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی نسل ہے اور انہوں نے ایران کو بھی کامیاب ریاست کے طور پر نہیں دیکھا ہے۔

خود حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ منشیات کا شکار ہے اور اس مسئلے پر اپنی انتخابی مہم میں میر حسین موسوی حکوت پر تنقید کر رہے ہیں۔

صدارتی انتخاب بارہ جون کو ہوں گے، تب تک دیکھنا ہے کہ احمدی نژاد غریب عوام میں اپنی مقبولیت کی وجہ سے کامیابی حاصل کر پاتے ہیں یا میر حسین موسوی ایک ترقی پسند دانشور ہونے کی وجہ سے فتح حاصل کرتے ہیں۔

ہمارے ساتھی ثقلین امام ایران کے صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے تہران میں موجود ہیں جہاں سے وہ انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد آنے والی سیاسی ، معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے بارے میں خبریں اور تبصرے بھیج رہے ہیں۔