ایران میں نئے جوہری پلانٹ کا افتتاح

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نےجوہری ایندھن کے کارخانے کا افتتاح کر دیا ہے۔ احمدی نژاد نے اصفہان میں ایک تقریب میں جوہری تونائی کے پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاملات پر دنیا کے خدشات پر بات چیت کرنے پر تیار ہے بشرطیکہ وہ بات چیت انصاف اور باہمی عزت کے اصولوں پر مبنی ہو۔

ایران نے ہمیشہ مغربی دنیا کے ان خدشات کو رد کیا ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ناتانز کے جوہری پلانٹ میں زیادہ صلاحیت کے دو سینٹری فیوجز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اور اب سینٹری فیوجز کی تعداد چھ ہزار سے بڑھا کر سات ہزار کر دی ہے۔

ایک ایسے وقت جب ساری دنیا کی توجہ ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی پر مرکوز ہے اصفہان میں ایک اور جوہری پلانٹ کا افتتاح عالمی دنیا کے لیے پریشانی کا باعث بنے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصفہان کا جوہری پلانٹ جب اپنی پوری صلاحیت پر کام شروع کردے گا تو وہ دو ایٹم بم کے لیے ضروری پلوٹونیم پیدا کرنے کے قابل ہو گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ یک طرفہ مذاکرات، مشروط مذاکرات سے معاملات حل نہیں ہوں گے اور ایرانی قوم ہمیشہ سے بامقصد مذاکرات کی متمنی تھی۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی دنیا کے چھ بڑے ممالک نے ایران کو جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ بدھ کو امریکہ، روس، چین، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اعلان کیا تھا وہ یورپی یونین کے سربراہ سے کہیں گے کہ ایران کو نئے مذاکرات کی دعوت دیں۔ ایک بیان میں ان ممالک نے کہا کہ ایران مذاکرات کی دعوت کو قبول کرے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ ’سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ایران کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ ایٹمی پروگرام ترک کر دے‘۔