سوائن فلو کو عالمی وبا قرار دے دیا گیا

ترجمان عالمی ادارۂ صحت
،تصویر کا کیپشنکسی مرض کو وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب دنیا کے دو خطوں میں اس مرض کی انسانوں سے انسانوں میں منتقلی وسیع پیمانے پر شروع ہو جائے

عالمی ادارۂ صحت نے جینوا میں ایک ہنگامی ملاقات کے بعد سوائن فلو کو عالمی وبا کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوائن فلو کا وائرس دنیا کے کم از کم دو خطوں میں انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے۔آسٹریلیا، جاپان، چلی اور برطانیہ میںسوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس سے قبل جمعرات کی صبح اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کا ایک ہنگامی اجلاس جینیوا میں ہوا جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ کیا سوائن فلو کو عالمی سطح پر وبا قرار دے دیا جائے یا نہیں۔

سنہ انیس سو اڑسٹھ میں ہانگ کانگ میں فلو کے وائرس کے نتیجے میں انفلوئنزا کو عالمی وبا قرار دیا گیا تھا جس سے تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عالمی ادارۂ صحت نے آسٹریلیا میں سوائن فلو کے مریضوں میں یکدم اضافے کے پیشِ نظر جمعرات کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔اب تک آسٹریلیا میں بارہ سو کے قریب افراد سوائن فلو میں مبتلا ہیں۔

ہانگ کانگ میں بھی بارہ طلبا میں سوائن فلو کی تصدیق کے بعد نرسری اور پرائمری سکول جمعہ سے دو ہفتے تک بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

کسی مرض کو وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب دنیا کے دو خطوں میں اس مرض کی انسانوں سے انسانوں میں منتقلی وسیع پیمانے پر شروع ہو جائے۔

اگرچہ سوائن فلو کے اکثر مریض صحتیاب ہو رہے ہیں تاہم عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اس وائرس سے 27737 افرد متاثر ہوئے جن میں سے 141 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صحت کے امور کے لیے بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سوائن فلو کے وائرس کو وبا کا درجہ دیئے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اچانک یہ وائرس زیادہ مہلک ہو گیا ہے۔ البتہ اس میں صحت کے معاملات سے وابستہ حکام کے لیے یہ اشارہ ضرور ہے کہ وہ اب یہ امکان واضح طور پر موجود ہے کہ اس مرض میں زیادہ لوگ مبتلا ہو سکتے ہیں۔

سوائن فلو کا وائرس اپریل میں میکسیکو میں ظاہر ہوا تھا اور تب سے اب تک شمالی اور جنوبی افریقہ میں ہزاروں افراد کو یہ مرض لاحق ہوا ہے۔ اب تک سوائن فلو کا وائرس ایچ ون این ون چوہتر ممالک میں پایا گیا ہے لیکن عالمی ادارۂ صحت نے اسے مکمل وبا قرار دینے سے گریز کیا ہے۔

عالمی ادارے کی سربراہ مارگریٹ چین نے بدھ کو ان آٹھ ممالک میں حکام سے بات چیت کی جہاں سوائن فلو بڑی تعداد میں پایا گیا ہے۔ اس بات چیت کا مقصد یہ اندازہ لگانا تھا کہ تصدیق ہو سکے کہ اس مرض کا پھیلاؤ کس حد تک ہو چکا ہے۔