’اسامہ پاکستان میں ہیں‘

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پانیٹا نے کہا ہے کہ ان اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستانی فوج کی پاکستان کے شمالی علاقوں میں کارروائی کے نتیجے میں سی آئی اے اوسامہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے جمعرات کو امریکی ایوان نمائندگان کانگریس میں خطاب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوسامہ بن لادن کوگرفتار کرنا ان کے ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی آئی نے پاکستان میں اپنے افسروں اور معلومات فراہم کرنے والے مقامی ایجنٹوں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ اوسامہ پاکستان میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ آخری اطلاعات تک تو یہی صورتحال تھی۔
اسلام آباد میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سی آئی اے کے ان دعوں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کے پاس شواہد ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم کریں۔
صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس طرح کے بیانات آتے رہتے ہیں لیکن اگر انہیں معلوم ہے کہ اوسامہ پاکستان میں ہیں تو پھر انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان میں کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر وہ یہ معلومات پاکستان کو کیوں فراہم نہیں کرتے۔
دریں اثنا پانیٹا نے کہا کہ سوات میں پاکستانی فوج کی کارروائی کامیاب رہی ہے اورماضی میں ایسی کوششوں سے زیادہ موثر ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ اس امکان سے بھی واقف ہے کہ پاکستان میں سختی کےنتیجے میں القاعدہ کے رہنما یمن اور صومالیہ کے محفوظ علاقوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔



