صومالیہ: خود کش حملے میں وزیر ہلاک

موغادیشو
،تصویر کا کیپشنعالمی دہشتگردوں نے صومالیہ پر یلغار کر دی ہے: صومالی وزیر اعظم

القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک صومالی شدت پسند تنظیم شہاب نے ملک کے وزیر سکیورٹی کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

جمعرات کے روز ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کو ایتھوپیا کی سرحد کے قریب واقع صومالی شہر بلید وائنی میں المدینہ ہوٹل سے ٹکرا دی جس میں وزیر سکیورٹی عمر ہاشی عدن سمیت اکیس افراد ہلاک ہو گئے۔

صومالیہ کی شہاب نامی تنظیم کا القاعدہ سے تعلق بتایا جاتا ہے۔ شہاب صومالیہ کی کئی شدت تنظیموں میں سے ایک ہے جو صومالیہ کی ایک کمزور اسلامی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمعرات کے روز ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کو ایتھوپیا کی سرحد کے قریب واقع شہر بلید وائنی میں المدنیہ ہوٹل سے ٹکرا دی جس میں وزیر سکیورٹی ایک سابق سفارت کار سمیت اکیس افراد ہلاک ہو گئے۔

صومالیہ میں تشدد کی کارروائیوں میں یکدم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بدھ کے روز دارالحکومت موغادیشو میں ایک مسجد پر مارٹر حملے میں شہر کے پولیس سربراہ ہلاک ہو گئے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے اتنے زیادہ جل گئے ہیں کہ ان کی شناخت کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ حملے میں صومالیہ کے ایک سابق سفیر بھی اس واقعے میں ہلاک ہو گئے۔

صومالیہ میں تشدد کی لہر اس وقت دیکھنے میں آئی ہے جب امریکی ذرائع ابلاغ امریکی حکام کے حوالے سے خبریں دے رہے ہیں کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجود<link type="page"><caption> القاعدہ کے شدت پسند صومالیہ اور یمن منتقل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/06/090612_qaeda_leave_ra.shtml" platform="highweb"/></link> ہو رہے ہیں۔

شدت پسندوں کی صومالیہ اور یمن منتقلی کی کئی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق القاعدہ افغانستان میں امریکہ کی اضافی فوج اور پاکستان کی فوج سے لڑ کر اپنی طاقت ضائع نہیں کرنا چاہتی اور اپنی طاقت کو بچانے کے لیےنئی محفوظ پناہ گاہوں میں جا رہے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق القاعدہ کی اعلی قیادت اب بھی پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر موجود ہے جبکہ صومالیہ اور یمن منتقل ہونے والوں میں پیادہ دہشتگرد شامل ہیں۔

صومالیہ کے صدر شیخ شریف شیخ احمد نے کہا کہ عالمی دہشتگردوں نے صومالیہ پر یلغار کر دی ہے جو صومالیہ کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صومالیہ کے وزیر اعظم عمر عبدی الرشید نے عالمی دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ صومالیہ کی مدد کرے۔