بگرام میں بدسلوکی، کیا اوباما خاموش رہیں گے

- مصنف, عامر احمد خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
بی بی سی کی تحقیق کے مطابق افغانستان میں بگرام کے امریکی فوجی اڈے میں رکھے گئے جنگی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی اور پرتشدد سلوک کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔
یہ کوئی نئی بات نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو حقیقت پہلے خوف کے سائے اور سرگوشیوں میں بیان کی جاتی تھی اس پر اب دنیا کے ایک بڑے خبر رساں ادارے نے تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔
ظاہر ہے، امریکہ نے قیدیوں سے بدسلوکی کے الزام کی تردید کی ہے۔ اور یہی متوقع تھا۔
سوال یہ ہے کہ گوانتانامو بے اور ابو غریب کے بعد کیا یہ کہانی بھی یہیں ختم ہو جائے گی؟ اس کا انحصار بی بی سی کی تحقیق یا امریکہ کے محکمۂ دفاع کے ترجمان کی تردید پر نہیں بلکہ امریکی صدر براک اوباما کی سیاست پر ہے۔
براک اوباما کو ورثے میں ایک ایسا امریکہ ملا ہے جسے ساری دنیا شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس کے جمہوریت نواز اور انسانی حقوق کے محافظ کے تشخص کو ڈھونگ اور منافقت سے تعبیر کرتی ہے۔
امریکی صدر اس تاثر کو بدلنے کے لیے بے چین ہیں۔ لیکن بی بی سی کی تحقیق کے نتائج ان مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو ان کی راہ میں حائل ہیں۔
گوانتانامو بے اور ابو غریب کے بعد اب بگرام میں ہونے والی زیادتیوں پر سے پردہ اٹھنا اس امر کی شہادت ہے کہ امریکہ کا جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک امریکہ پر ہونے والے حملوں کا فوری اور وقتی رد عمل نہیں بلکہ ’دہشتگردی‘ کے خلاف امریکی جنگی پالیسی کا تاحال ایک مستقل حصہ رہا ہے۔
گویا یہ انفرادی یا جنگی پالیسی کا نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوں اس کا تدارک اس تشدد کے مرتکب چند فوجیوں کو سزائیں دے کر یا سابق صدر جارج بش کی باقیات بتا کر ممکن نہیں۔ اس پالیسی کو بدلنے کے لیے صدر براک اوباما کو امریکی ریاستی پالیسی سے ٹکر لینی ہو گی۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی حکومتی سربراہ کے لیے ریاست سے ٹکر لینا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ ریاستی غلطیوں کو ماننے، اپنانے اور انہیں نہ دہرانے کا عہد کرنے کے لیے جو سیاسی حوصلہ اور عزم چاہیے وہ سیاستدانوں کی میراث نہیں۔
صدر اوباما گوانتانامو بے کو بند کرنے کی کاوش میں پہلے ہی امریکی سینیٹ کے ہاتھوں مار کھا چکے ہیں۔ بگرام کا معاملہ ان کے انسانی حقوق کی تعظیم کے سیاسی عزم کو مزید ہلا سکتا ہے۔
بی بی سی کی تحقیق اور امریکی محکمہ دفاع کی تردید اپنی جگہ، انسانی حقوق کی پاسداری کے معاملے پر صدر اوباما کی آپشنز اب واضح ہیں۔ یا تو وہ بطور حکومتی سربراہ خود کو امریکہ کی ریاستی پالیسیوں کا محافظ سمجھ کر خاموش ہو جائیں یا وہ خود کو امریکی حکومت سے زیادہ امریکی عوام کا راہنما سمجھ کر کھلے دل سے اعتراف کریں کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد امریکہ نے انسانی حقوق کی اتنی ہی پاسداری کی جتنی کے اس نظریہ کے بدترین دشمنوں نے۔





















