’بگرام میں قیدیوں پر تشدد کیا گیا‘

- مصنف, ایئن پینل
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل
افغانستان میں واقع امریکی فوجی اڈے بگرام میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا تھا جہاں ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، سونے نہیں دیا جاتا اور کتوں سے ڈرایا جاتا تھا۔
بی بی سی نے یہ انکشاف ان ستائیس سابق قیدیوں سے انٹرویو کے بعد کیا ہے جن کو بگرام بیس میں زیر حراست رکھا گیا تھا۔بی بی سی نے ان ستائیس افراد سے علیحدگی میں ایک جیسے ہی سوال پوچھے۔
تاہم امریکی وزارت دفاع نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ تمام قیدیوں سے اچھا برتاؤ کیا جاتا ہے۔
جن سابق قیدیوں سے بی بی سی نے انٹرویو کیے انہیں دو ہزار دو اور آٹھ کے عرصے کے دوران زیر حراست رکھا گیا تھا اور ان پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق یا مدد کرنے کا الزام تھا۔
ان میں سے کسی پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ ان میں سے چند ایک کو رہا کرتے ہوئے ان سے معافی مانگی گئی تھی۔
ستائیس میں سے صرف دو سابق قیدیوں نے کہا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔
انٹرویو کے دوران بدسلوکی کے الزامات بار بار لگے۔ ان الزامات میں تشدد، شدید گرمی اور سردی، ناقابل برداشت اونچی آواز، خواتین فوجیوں کے سامنے کپڑے اتروانا اور چار قیدیوں کے مطابق کنپٹی پر بندوق رکھ کر جان سے مارنے کی دھمکی دینا شامل ہیں۔
ان الزامات کے حوالے سے امریکی وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مارک رائٹ کا کہنا تھا کہ بگرام پر قیدیوں کے ساتھ طے شدہ بین الاقوامی معیار کا سلوک کیا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وزارت دفاع کی یہ پالیسی ہے کہ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ چند کیسز ایسے ہیں جس میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور ان کیسز میں ناروا سلوک کرنے والے افراد کا احتساب کیا گیا۔‘





















