گوانتانامی نظر بند نیویارک میں

گوانتانامو بے
،تصویر کا کیپشناحمد غائیلانی کو اہم ترین قیدی کے طور پر سنہ دو ہزار چھ میں گوانتانامو بے کی کیمپ جیل منتقل کیا گیا

مقدمے کی سول عدالت میں سماعت کے لیے ایک گوانتانامی نظربندوں کو نیو یارک لایا گیا ہے۔

احمد غائیلانی نامی اس سخص پر مشرقی افریقہ میں امریکہ کے سفارت خانے پر انیس سو اٹھانوے میں ہونے والی بمباری میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

غائیلانی تنزانیہ کے باشندے ہیں اور انہیں سنہ دو ہزار چار میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور منگل کی شام مینہٹن کی ایک عدالت میں ابتدائی سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

احمد غائیلانی کو اہم ترین قیدی کے طور پر سنہ دو ہزار چھ میں گوانتانامو بے کی کیمپ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

امریکی اٹارنی جنرل کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’احمد غائیلانی اس سماعت کے دوران تنزانیہ اور کینیا کے امریکی سفارتخانوں پر ہونے والی بمباری میں ملوث ہونے کے الزامات کی صفائی پیش کریں گے۔ بمباری کے ان واقعات میں دو سو چوبیس افراد ہلاک ہوئے تھے‘۔

انیس سو سات کےدوران ہونے والی خفیہ سماعت کے ریکارڈ کے مطابق احمد غائیلانی نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ داراسلام میں امریکی شفارت خانے میں ہونے والے دھماکے میں استعمال کیا جانے والا بارود انھوں نے فراہم کیا تھا۔

تاہم اس سماعت میں ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں اس دھماکے کے بارے میں پہلے سے پتہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس پر امریکی حکومت اور نشانہ بننے والے لکوگوں کے اہلِ خانہ سے معافی بھی مانگی تھی۔

اس معاملے کی تحقیق کرنے والے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ احمد بمباری سے قبل افریقہ سے چلے گئے تھے۔