ایران: پانچ برطانوی اہلکار رہا

ایران
،تصویر کا کیپشنایران نے گذشتہ ہفتے برطانوی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران میں گرفتار برطانوی سفارت خانے کے پانچ اہلکاروں کو رہا کردیاگیا ہے۔تاہم حراست میں لیے گیے اہلکاروں کی صحیح تعداد ابھی تک معلوم نہیں۔

ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان حسن غشغوی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’کل آٹھ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے پانچ کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ ان میں تین سے ابھی تفتیش کی جا رہی ہے‘۔

اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا تھا کہ برطانوی سفارت خانے کے نو اہلکارگرفتار کیے گیے ہیں۔

تہران میں بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر جیرمی باون کا کہنا ہے کہ کچھ اہلکاروں کی رہائی کی خبر کے باوجود یہ ابھی بھی برطانیہ کے لیے سنگین مسئلہ ہے کیونکہ کچھ اہلکار اب بھی حراست میں ہیں۔

ایران اور برطانیہ کےتعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب ایران نے الزام لگایا تھا کہ برطانیہ انتخابات کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے لیکن برطانیہ اس کی تردید کر چکا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز تہران نے انتخابات کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزام میں برطانوی سفارت خانے کے آٹھ مقامی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے تہران میں ان اہلکاروں کی گرفتاری کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

علاوہ ازیں ایران کی شورائے نگہبان نے جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی جزوی گنتی شروع کر دی ہے۔

ایران میں انتخابی نتائج کے خلاف بارہ جون سے شروع ہونے والے ہنگاموں میں اب تک سترہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔

ایران نے گزشتہ ہفتے برطانوی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا اور اس کے جواب میں برطانیہ نے بھی ایسی کارروائی کی تھی۔

ایران نے برطانوی سفارت خانے کے مقامی عملے کے اراکین کو ہنگاموں میں قابل ذکر کردار ادا کرنے کی بنیاد پرگرفتار کیا تھا۔

واضح رہے کہ بارہ جون کو ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات کے نتائج کے مطابق موجودہ صدر محمود احمدی نژاد نے تریسٹھ فیصد جبکہ میر حسین موسوی نے چونتیس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ جس کے بعد ایران میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔