غیر معمولی وقتوں کے لیے غیر معمولی خطاب

- مصنف, جم میور
- عہدہ, تہران کے سابق نامہ نگار
ایرانی رہنما اعلٰی کا جمعہ کا خطبہ غیر معمولی وقتوں کے لیے ایک غیر معمولی خطاب تھا۔
انہوں نے پہلی مرتبہ ایرانی سیاست پر کھلے طور پر بات کی ہے۔ تاہم مختصر الفاظ میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انہوں نے انتخابات میں صدر احمدی نژاد کی متنازع فتح کی حمایت کرتے ہوئے اب گیند کو احمدی نژاد کے مخالف میر حسین موسوی کے کورٹ میں ڈال دیا ہے۔
خامنہ ای نے انتخابات کے نتائج کے مخالفیں سے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کو ختم کیا جائے، بے شک وہ پر امن ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہرہ کرنا حکومت پر دباؤ ڈالنے اور تشدد آمیزی شروع کرنے کا غیر قانونی طریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مظاہروں نے پرتشدد شکل اختیار کی تو اں کی ذمہ داری حزب مخالف کے رہنماؤں پر عائد ہوگی۔
اب موسوی اور ان کے حامیوں کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کے خیال میں احتجاج، سیاسی بے انصافی سے نمٹنے کا طریقہ تھا تاہم اب خامنہ ای کے بیان کے بعد اگر یہ مظاہرے جاری رہے تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
انتخابات کے بعد سے اب تک مظاہرین کو پر امن طور پر برداشت کیا جاتا رہا ہے تاہم اب رہنما اعلٰی کے بیان کے بعد حکومتی طاقتیں کھلے طور پر طاقت کا استعمال کرسکتی ہیں۔
تو کیا موسوی اب مزید خطرہ مول لے کرملک کے اسلامی نظام سے ٹکر لے سکیں گے؟
دوسری طرف اگر وہ احتجاجی تحریک سے دستبردار ہوجاتے ہیں تو ان ہزاروں افراد کو مایوسی سے دوچار ہونا ہوگا جو ملک میں اصلاحات اور تبدیلی چاہتے ہیں۔
موسوی خود آٹھ سال تک ایران کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ ہورہی تھی۔ اس دور میں خامنہ ای ملک کے صدر تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خامنہ ای نے جمعہ کے خطاب میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی بات کی ہے جو کہ مخالف جماعتوں کو مطمئن کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ میر حسین موسوی انتخابات کے نتائج پر غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ ان کا دعوٰی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے ووٹ گنے ہی نہیں گئے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے انتخابات میں دھاندلی ناممکنات میں سے ہے۔
شورائے نگہبان صدر احمدی نژاد کے مخالفین سے سنیچر کو ایک اہم اجلاس کررہی ہے۔ شورائے نگہبان نے شکست خوردہ امیدوار میر حسین موسوی اور اصلاح پسند مہدی کروبی کے علاوہ قدامت پسند محسن رضائی کو ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ شورٰی انتخابات کے دوبارہ کروائے جانے کے مطالبے کو رد کردے گی۔
اگر ناخوش رہنماؤں نے احتجاج کا راستہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تو ملک میں بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ یا اگر انہوں نے احتجاج کا رستہ ترک کردیا تو ان ہزاروں عوام کا کیا ہوگا جنہوں نے پہلی بار آواز بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔ تیسری صورتحال یہ ہوسکتی ہے کہ اسلامی حکمراں اب تک کے ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے اتنے متاثر ہوچکے ہیں کہ امن قائم رکھنے کے لیے مخالف رہنماؤں کے مطالبات تسلیم کرلیں گے۔
ایران کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر احمدی نژاد نے مظاہرین کا موازنہ فٹ بال کے ان شائقین سے کیا ہے جن کی ٹیم شکست سے دوچار ہوئی ہو۔ تاہم جمعرات کو کیے گئے خطاب میں احمدی نژاد نے مظاہرین کے لیے مزید احترام کا مظاہرہ کیا اور اپنے الفاظ کے استعمال میں احتیاط برتی۔
اگر سڑکوں پر ہونے والے ٹکراؤ کو روکا گیا تو پھر حالات کچھ اس طرح کا رخ اختیار کرسکتے ہیں:
صدر احمدی نژاد رہنما اعلٰی کی حمایت کے ساتھ صدارت پر قائم رہیں گے اور اصلاحات کے خواہاں افراد کا غصہ اپنی جگہ برقرار رہے گا بے شک اس کے اظہار پر پابندی ہی کیوں نہ ہو۔
ہاشمی رفسنجانی آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت کے ساتھ حزب مخالف کے رہنما رہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای ملکی نظام میں توازن قائم کرکے خود رہنما اعلٰی کے عہدے پر برقرار رہیں۔
اگر اسی طرح کی صورتحال سامنے آئی تو بلاشبہ ملک میں خونریزی، باغی قوتوں اور عدم استحکام سے بچا جاسکتا ہے تاہم یہ صورتحال ان ہزاروں ایرانی افراد کے لیے باعث اضطراب ثابت ہوگی جنہیں ان انتخابات سے تبدیلی کی توقع تھی۔





















