ہم مداخلت نہیں کر رہے: اوباما

ایران کی طرف سے برطانوی سفارتکاروں کو نکالے جانے کے جواب میں برطانیہ نے بھی ایرانی سفارتکاروں کو یہاں سے چلے جانے کو کہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنایران کی طرف سے برطانوی سفارتکاروں کو نکالے جانے کے جواب میں برطانیہ نے بھی ایرانی سفارتکاروں کو یہاں سے چلے جانے کو کہا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپوزیشن کے مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کے اقدام کی کڑی مذمت کی ہے لیکن یہ واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے۔ امریکی صدر نے کہا امریکہ ایران کے معاملات میں مداخلت نہیں کر رہااور ایرانی الزامات غلط ہیں۔ادھر برطانیہ نے دو ایرانی سفارت کاروں کو یہاں سے چلنے جانے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل ایران نے بھی برطانوی سفارتکاروں کو تہران سے چلے جانے کو کہا تھا۔

ایران نے لندن پر الزام لگایا تھا کہ وہ اپوزیشن کے احتجاج میں ملوث ہے لیکن دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اپنے ملک میں اپنے ہی ایک واقعہ کا الزام دوسروں پر عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خود ایران میں اپوزیشن رہنماؤں میں سے ایک مہدی کروبی نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی نتائج کے خلاف دورانِ احتجاج ہلاک ہو جانے والوں کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے۔

دس روز قبل ایران میں صدارتی انتخابات کے نتیجے میں محمود احمدی نژاد کامیاب قرار دیئے گئے لیکن شکست کھانے والے صدارتی امیدواروں نے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا اور نتائج کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں جن میں اب تک سترہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران کے سب سے بڑے انتخابی ادارے شورٰی نگہبان نے پہلے ہی یہ کہہ دیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو منسوخ نہیں کرے گی۔

اپوزیشن کے حمایتیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انتخابی نتائج منسوخ کر دیئے جائیں اور صدارتی انتخابی دوبارہ کرایا جائے۔

تاہم شورٰی نگہبان کے ترجمان عباس علی نے کہا ہے کہ انتخابات میں کوئی بڑا فراڈ یا اصول و قواعد کی بڑی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

ادھر اپوزیشن کے ایک صدارتی امیدوار مہدی کروبی نے ایران قوم سے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کا سوگ منائیں۔

مہدی کروبی ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انتخابی نتائج ایک طرف رکھ دیئے جائیں اور مرنے والوں کے لیے ملال کی تقاریب منعقد کی جائیں

اس سے قبل ایک بڑے آیت اللہ حسین علی منتظری نے بھی تین روزہ قومی سوگ منانے کا مطالبہ کیا تھا۔

صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف احتجاج کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعہ کو ایسے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم پیر کو پولیس اور مظاہرین میں پھر جھڑیں ہوئیں۔
،تصویر کا کیپشنصدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف احتجاج کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعہ کو ایسے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم پیر کو پولیس اور مظاہرین میں پھر جھڑیں ہوئیں۔

پیر کو شورٰی نگہبان نے اعتراف کیا تھا انتخابی عمل میں بے قاعدگیاں ہوئیں ہیں۔ تاہم اس سے مجموعی طور پر انتخابات کے نتائج متاثر نہیں ہوئے اور احمدی نژاد انتخاب واقعی جیت گئے ہیں۔

اپنے خط میں مہدی کروبی نے کہا کہ کچھ ووٹوں کی گنتی پر وقت ضائع کرنے کی بجائے پورے انتخابی عمل ہی کو منسوخ کر دیا جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایرانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ گرفتاریوں کا سلسلہ روک دیں اور بنیادی شہری حقوق کی پاسداری کریں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے بیان میں ایرانی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ فوراً مظاہرین کے خلاف دھمکی آمیز اور پر تشدد کارروائیاں روک دے۔ انہوں نے ایران کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرے جن میں آزادی اظہار اور آزادی اجماع شامل ہیں۔

بان کی مون کا یہ بیان پیر کو تہران میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد آیا۔

مظاہروں پر پابندی کے باوجود پیر کو ہزار کے قریب افراد ہفتِ تیر سکوائر میں جمع ہوئے تھے۔ صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف احتجاج کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعہ کو ایسے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا دی تھی۔ تاہم پیر کو پولیس اور مظاہرین میں پھر جھڑیں ہوئیں۔

ادھر ہفتے کے روز احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والی ایک خاتون ندا آغا سلطان کے منگیتر نے بتایا ہے کہ حکام نے مرحومہ کے خاندان کو تہران کی ایک مسجد میں ان کی یاد میں تقریب منعقد کرنے سے روک دیا ہے ۔کسپیان مکان کے مطابق مذہبی حکام اور بسیج ملیشیا نے خاندان کو اس لیے اس تقریب سے روکا ہے کہ انہیں خطرہ ہے کہ کہیں ندا آغا سلطان اس تحریک کی علامت اور شہید کے طور پر علامت نہ بن جائیں۔ ان کی خونی تصویر پہلے ہی فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچ چکی ہے۔