سوائن فلو کو روکنا ناممکن: ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت کی سربراہ مارگریٹ چن نے کہا ہے کہ سوائن فلو وائرس دنیا میں اتنی تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے کہ اب اسے روکنا ناممکن ہو چکا ہے۔
دو ماہ قبل میکسیکو سے شروع ہونے والے سوائن فلو جسے ایچ ون این ون بھی کہا جاتا ہے اس وقت دنیا کے ایک سو ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے ستر ہزار لوگ متاثر ہیں اور اب تک تین سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
<link type="page"><caption> سوائن فلو:’حج اور عمرے سے گریز کریں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/07/090630_saudi_swineflu_hajj_zee.shtml" platform="highweb"/></link>
سوائن فلو سے مرنے والوں کی اکثریت پہلے سے ہی مختلف امراض میں مبتلا تھی۔ سوائن فلو ایسے اشخاص کی زندگی کو جو پہلے ہی کسی بیماری میں مبتلا ہوں، زیادہ خطرات لاحق کر دیتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی سربراہ مارگریٹ چن نے میکسیکو کے شہر کیکن میں سوائن فلو کے بارے میں دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ون ایچ ون ایک عالمی وباء ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے لوگوں کو آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوائن فلو کے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد کو کم شدید اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ بغیر کسی طبی مدد کے صحتیاب ہو جاتے ہیں۔
ڈبلیو ایج او کی سربراہ نے واضح کیا کہ سوائن حاملہ خواتین اور ایسے افراد جن کو پہلے کئی امراض لاحق ہوں، کے لیے خطرات ثابت ہو سکتا ہے اور ایسے مریضوں کی مکمل نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔
مارگریٹ چن نے کہا کہ سوائن فلو سے متعلق مکمل معلومات لوگوں تک پہنچانا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے لیےایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کب انہیں پریشان نہیں ہونا اور کب انہیں فوراً طبی امداد کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کانفرنس کے دوران برطانیہ کےنمائندے نے کہا کہ سوائن فلو بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق موسم سرما کے اختتام پر برطانیہ میں روزانہ ایک لاکھ لوگ سوائن فلو میں مبتلا ہو رہے ہوں گے۔
امریکہ میں سوائن فلو کا پھیلاؤ اپنے عروج پر ہے اور کئی علاقوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ لاطینی امریکہ کے ممالک ایلسلواڈور اور پیراگوآئے میں گزشتہ روز سوائن فلو سے اموات واقع ہوئی ہیں۔
ارجناٹن میں نے سکول بند کر دیئے گئے ہیں اور روزگار پیشہ حاملہ خواتین کو کہا گیا ہے کہ وہ دو ہفتے کےلیے چھٹی کریں۔





















