ڈاکٹر عافیہ کا صحتِ جرم سے انکار

- مصنف, حسن مجتبٰی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے عدالت کے سامنے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے خود پر لگے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے نیویارک میں سماعت کے موقع پر عدالت کو بتایا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر نہ تو گولی نہیں چلائي اور نہ ہی وہ امریکہ کے خلاف ہیں بلکہ وہ امن کی حامی اور جنگ کے خلاف ہیں۔
پیر کے روز نیویارک کی وفاقی عدالت یو ایس کورٹ صدرن ڈسٹرکٹ میں جج رچرڈ ایم بریمین کے سامنے جب خاتون پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جیل سے مبینہ طور زبردستی پیش کیا گیا تو انہوں نے سات گھنٹوں کی طویل سماعت کے دوران کمرہ عدالت کو ایک ڈرامے میں بدل دیا۔
سات گھنٹوں کی عدالتی کارروائی کے دوران ڈاکٹر عافیہ مختلف مواقع پر اٹھ کر جج کو مخاطب کرتی اور کارروائي میں مداخلت کرتی رہیں- انہوں نے خود پر جیل میں تشدد ہونے اور جیل کے محافظوں کی طرف سے مبینہ طور پر قرآن کو ان کے پاؤں میں رکھنے کے بھی الزامات لگائے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو تقریباً دس ماہ کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
جج رچرڈ بریمن کے سامنے عدالت کی کارروائي جیسے ہی شروع ہوئي تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی اٹھ کر کھڑی ہوئيں اور جج سے مخاطب ہوکر کہا: ’میں بيگناہ ہوں۔ میں نے کوئي گولی نہیں چلائي۔ نہ میرے پاس بندوق ہے۔ میں امریکہ کے خلاف نہیں ہوں‘۔ جج نے اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ کو عدالتی کارروائي میں مخل نہ ہونے اور بیٹھ جانے کو کہا۔
استغاثہ کی جانب سے غیرجانبدار نفسیاتی ماہر ڈاکٹر تھامس کوچارکی اور گریگوری بی سیتھاف نے وکلاء او عدالت کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات کے جواب میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نفسیاتی طور پر مقدمہ چلائے جانے کی اہل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل استغاثہ کا موقف تھا کہ ڈاکٹر صدیقی نفیسیاتی طور پر بالکل ٹھیک ہیں اور وہ مقدمے سے بچنے کے لیے بہانے کر رہی ہیں۔
جبکہ ان کی وکیل صفائی ڈان کارڈی نے استغاثہ کی طرف سے مقرر کردہ ماہر نفسیات کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ اذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ نے ایک موقع پر اپنا رخ کمرۂ عدالت میں موجود عام لوگوں اور صحافیوں کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاکر دنیا کو بتائيں کہ ’میں بے قصور ہوں اور مجھ پر ظلم ڈھائے گۓ ہیں اور سازش کی گئي ہے‘۔
جب جج نے انہیں خاموش رہنے اور بیٹھ جانے کو کہا تو انہوں نے براہ راست جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ان پر تشدد کیا جارہا ہے اور جسم برہنہ کرکے تلاشی لی جاتی ہے اور اس کی وڈیو بنائي جاتی ہے اور یہ سب کچھ ان کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔ اس پر جج نے کہا کہ وہ جیل حکام کو صرف قواعد کے مطابق تلاشی کی مزاحمت کرنے والوں پر سختی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ ’اگر کسی کی برہنہ کر کے تلاشی لی جائے تو کیا وہ مزاحمت بھی نہ کرے!‘
ڈاکٹر عافیہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں عدالت میں زبردستی لایا گیا ہے- انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اپنے بچوں سے ملوایا جائے اور ان کے ساتھ پانچ سال سے ہونے والے ظلم و تشدد کا حساب بھی لیا جائے۔
عدالت میں سات گھنٹوں کی کارروائي کے بعد جج رچرڈ بریمن نے بیس جولائي کو ماہرین کی رپورٹ کے لیے مقرر اور اگر انہیں ان پر قائم مقدمہ کا اہل قرار دیدیا گیا تو مقدمہ کی سماعت انیس اکتوبر سے شروع ہوگی۔







