عراق: خودکش حملے میں اکتالیس ہلاک

عراقی پولیس اور طبی عملے کے مطابق شمالی عراق میں دو خودکش دھماکوں میں کم از کم چونتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ بغداد میں دو بم دھماکوں میں کم از کم سات افراد مارے گئے ہیں۔
خودکش حملے موصل کے نزدیک واقع تلعفر نامی قصبے میں ہوئے اور ان حملوں میں ساٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ عراقی قصبوں اور شہروں سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد ہونے والے سب سے بڑے حملے ہیں۔
شیعہ اکثریتی آبادی والے قصبے تلعفر میں یہ حملے جمعرات کی صبح اس وقت ہوئے جب پہلے ایک خودکش حملہ آور نے ایک مقامی جج کے گھر کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا اور بعدازاں جائے وقوعہ پر موجود افراد کے درمیان موجود دوسرے حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔
مقامی پولیس حکام کے مطابق اس حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے متعدد کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ خیال رہے کہ موصل میں بدھ کو بھی شیعہ مسلک کی مساجد کے نزدیک دو دھماکے ہوئے تھے جس میں نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
ادھر بغداد کے علاقے صدر سٹی میں سات افراد اس وقت ہلاک ہوگئے جب ایک بازار میں کوڑے کے ڈھیر میں چھپائے جانے والے دو بم پھٹ گئے۔ ان دھماکوں میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

















