افغانستان چھوڑنا مہنگا پڑے گا: نیٹو
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ژان ڈی ہوپ شیفر نے برطانیہ کے دورے کے دوران خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں چاہیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے یا کتنا بھی نقصان اٹھانا پڑے نیٹو وہاں سے نکالنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان سے نیٹو کی افواج کو واپس بلانے کا مطلب ہو گا کہ آپ القاعدہ کو وہاں کھل کھیلنے کا موقع دے دہے ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے یہ بیان ایک ایسے موقعہ پر دیا ہے جب افغانستان میں اتحادی فوجوں کے جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ سن دو ہزار ایک کے بعد سے اب تک ایک مہینے میں اتحادی فوج کے افغانستان میں اتنے فوج ہلاک نہیں ہوئے جتنے کہ رواں مہینے میں ہوچکے ہیں۔
پیر کے دن ایک بم دھماکے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہوئے جس سے اس مہینے جولائی میں مرنے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد پچپن ہو گئی ہے جس میں سے سترہ برطانوی فوجی تھے۔
برطانیہ کے ایک ’تھنک ٹینک‘ میں تقریر کرتے ہوئے ژان ڈی ہوپ شیفر نے کہا کہ اس مہم کو ادھورا چھوڑنے کے بارے میں اتحادی ملک سوچ بھی نہیں سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اتحادی فوج کو افغانستان سے نکال لیا گیا تو افغانستان پر طالبان قابض ہو جائیں گے جو کہ وہاں کے لوگوں اور خاص طور پر خواتین کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو گا۔
انہوں نےکہا کہ اس سے پاکستان پر بھی برا اثر پڑے گا اور بین الاقوامی امن بھی مثاثر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں انتہاہ پسندی بڑھے گی اور القاعدہ کو کھلی چھٹی مل جائے گی کہ وہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نےکہا کہ نیٹو کے ملکوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ افغانستان کا مشن ان کے لیے کتنا ضروری ہے۔



















