خوست میں سرکاری عمارتوں پر حملے

خوست
،تصویر کا کیپشندو ماہ قبل بھی خوست میں ایسے ہی حملے ہوئے تھے

افغانستان کے جنوب مشرقی شہر خوست میں مشتبہ طالبان خودکش حملہ آوروں نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شہر کے مرکزی تھانے، اٹارنی جنرل کے دفتر، عدالتوں اور ایک مقامی بینک کے قریب سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

ان حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظہیر عظیمی نے بتایا ہے کہ ’دہشتگردوں کے ایک گروہ نے سرکاری عمارتوں اور ایک بینک کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے تین نے خودکش دھماکے کیے جبکہ چند دہشتگرد سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کر رہے ہیں‘۔

ان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان لڑائی تاحال جاری ہے اور دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسی برس مئی کے مہینے میں بھی خوست میں ہی سرکاری عمارتوں پر سلسلہ وار حملوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے خوست کے شمال مغرب میں واقع گردیز نامی قصبے میں بھی اسی قسم کے حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔