’طالبان کو شریک کریں‘

رچرڈ ہالبروک
،تصویر کا کیپشنرچرڈ ہالبروک بی بی سی سے بات کررہےتھے

امریکہ اور برطانیہ کے اعلی ترین حکام نے کہا ہے کہ جو طالبان شدت پسندی ترک کرنے پر تیار ہوں انہیں افغانستان کے سیاسی عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔

افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی صدر براک اوباما کے ایلچی رچرڈ ہالبروک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے طالبان کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی کہا ہے کہ اعتدال پسند طالبان سے مذاکرات کے عمل میں شریک کرنے سے استحکام بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

افغان صدر حامد کرزائی نے بھی ان طالبان کے لیے جو تشدد کی راہ ترک کرنے پر تیار ہوں نرم زبان استعمال کی ہے۔

صدر حامد کرزائی نے کہا ہے کہ ’ اگر وہ اپنے کیئے پر نادم ہوں اور سرے عام افسوس کا اظہار کریں تو امن کی خاطر میں ان سے بات کرنے کو تیار ہوں۔‘

طالبان کو زیتوں کی شاخ جنوبی افغانستان میں برطانوی فوج کی کارروائی کے کامیابی سے مکمل ہونے کے اعلان کے بعد پیش کی گئی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ نیٹو افواج کو ہلمند میں طالبان سے حاصل کیئے گئے علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ہلمند صوبے میں نیٹو افواج نے صدارتی انتخابات سے پہلے ’پیتنھر کلاء‘ (چیتے کا پنجے) کے نام سے ایک ماہ قبل آپریشن شروع کیا تھا۔ گزشتہ ماہ شروع کیئے جانے والے آپریشن میں تین ہزار کے قریب فوجیوں نے حصہ لیا۔

رچرڈ ہالبروک نے بی بی سی سے کہا کہ طالبان شدید دباؤ میں ہیں اور ان کے مالی وسائل بھی محدود ہو رہے ہیں۔