خوست میں سرکاری عمارتوں پر حملے

افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ گزشتہ روز جنوب مشرقی صوبے خوست میں طالبان نے ایک ساتھ کئی خودکش حملے کرکے سرکاری عمارتوں پر حملے کی کوشش کی۔
وزارت داخلہ کے مطابق کم سے کم چھ خودکش حملہ آوروں نے مرکزی پولیس سٹیشن پر دھاوا بولا مگر دھماکے کرنے سے پہلے ہی انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
تاہم ایک اور حملہ آور بارود سے بھری ایک کار کو دھماکہ کرکے اڑا دیا جس سے کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں پولیس اور شدت پسندوں کے مابین کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ایک ہفتے کے دوران طالبان نے یہ تیسرا مربوط حملہ کیا ہے جس میں خود کار ہتھیار اور راکٹ سے داغے جانے والے گرینیڈ بھی استعمال کیے گئے۔
بعض حملہ آور سرحدی پولیس کی وردیاں پہنے ہوئے تھے۔ پولیس سٹیشن کے علاوہ ایک بینک اور فوجی ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے، جو کابل کے دورہ پر ہیں، کہا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کے باوجود اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہیئں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خوست میں ہونے والا حملہ حکام کے لیے ایک اور دھچکہ ہے جنہوں نے انتخابات سے قبل حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں اس وقت نوے ہزار کے لگ بھگ غیر ملکی فوجی موجود ہیں
افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظہیر عظیمی نے بتایا ہے کہ ’دہشتگردوں کے ایک گروہ نے سرکاری عمارتوں اور ایک بینک کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے تین نے خودکش دھماکے کیے جبکہ چند دہشتگرد سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کر رہے ہیں‘۔
ان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان لڑائی میں دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اسی برس مئی کے مہینے میں بھی خوست میں ہی سرکاری عمارتوں پر سلسلہ وار حملوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے خوست کے شمال مغرب میں واقع گردیز نامی قصبے میں بھی اسی قسم کے حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔






















