ایران میں ایک سو چالیس مظاہرین رہا

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اطلاعات کے مطابق حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں میں گرفتار ہونے والے سینکڑوں لوگوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیئے ہیں۔
منگل کو حکام نے ایون کے قید خانے سے ایک سو چالیس افراد کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
حکام کے مطابق دو سو کے قریب لوگ اب بھی قید میں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس سے کہیں زیادہ لوگ قید میں ہیں اور رہا کئےجانے والے لوگوں میں سیاسی کارکن شامل نہیں ہوں گے۔
ان لوگوں کی رہائی ایران کے اعلی ترین راہنما کی طرف سے اس قید خانے کو بند کرنے کے حکام کے بعد میں عمل میں آئی ہے۔ اس قید خانے کو بند کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ اس میں قیدیوں کے حقوق کی پاسداری نہیں کی جاتی تھی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی اقدام سے ظاہر ہوتا ہےکہ حکومت ان قیدیوں کی وجہ سے کتنے دباؤ کا شکار ہے۔
حکام نے منگل کو پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا کہ انتخابات کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ قبل ازیں حکومت پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس بتاتی تھی۔
منگل کو رہا کیئے جانے والے لوگوں کو سرکردہ سیاسی شخصیت شامل نہیں ہے۔
ایک پارلیمانی کمیٹی بھی ہنگاموں کے درمیان گرفتار کیئے جانے والے افراد کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کمیٹی کی طرف سے اس قید خانے کے دورے کے بعد قیدوں کو رہا کیا گیا ہے۔





















