عراق: بم حملوں میں تئیس ہلاک

شمالی عراق میں حملہ(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنعراق میں پرتشدد کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے

عراق میں شیعہ فرقے کی ایک بڑے تہوار کے موقع پر ایک مسجد اور شیعہ زائرین پر بم حملوں میں کم از کم تئیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اہلِ تشیع کے لیے یہ ان کے بارہویں امام محمد المہدی کا یوم پیدائش ہونے کے اعتبار سے ایک اہم ترین تہوار ہے اور اس موقع پر کربلا میں دس لاک سے زائد افراد کا اجتماع تھا۔

اس موقع پر مسجد کو موصل میں نشانہ بنایا گیا جس میں بیس افراد ہلاک ہوئے اور جب کہ زائرین پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ کربلا سے لوٹ رہے تھے اور اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

عراق میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اکثر تصادم دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔ تاہم اس تصادم نے کبھی کھلی شکل اختیار نہیں کی اور ایک دوسرے کو اسی طرح حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

شمالی عراق میں واقع شہر موصل کے نواح میں ایک مسجد میں دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازی مسجد سے نماز پڑھ کر جا رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں اکسٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق ترکمان برادری سے تھا۔

زائرین کو لانے والی بس اس وقت سڑک پر لگے ایک بم کی زد میں آ گئی جب وہ دارالحکومت بغداد کے علاقے صدر شہر میں داخل ہو رہی تھی۔ اس حملے میں آٹھ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

جمعرات کو بھی ایک بس پر اس وقت حملہ ہوا تھا جب وہ زائرین کو لے کر کربلا جا رہی تھی تاہم اس میں صرف ایک شخص ہلاک ہوا تھا جب کہ تین زائر زخمی ہوئے تھے۔