افغان صدارتی امیدواروں کے خاکے

    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

افغانستان میں جاری صدارتی انتخابات میں اس وقت سینتیس امیدوار میدان میں ہیں۔ انتخابات کے سلسلے میں ہونے والے سروے، میڈیا اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی دوڑ میں صدر حامد کرزئی کو سب سے آگے سمجھا جارہا ہے۔ تاہم ان کو اپنے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر اشرف غنی کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ انتخابی دوڑ میں شامل ان حضرات کی زندگیوں پر ایک نظر۔

<link type="page"><caption> سکیورٹی صورتحال کا جائزہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/08/090820_afghan_election_map_aw.shtml" platform="highweb"/></link>

حامد کرزئی

حامد کرزئی چوبیس دسمبر انیس سو اٹھاون کو جنوبی افغانستان کے کرز نامی گاؤں میں پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق پوپلزئی درانی قبیلے سے ہے۔ ان کا خاندان سیاسی لحاظ سے جانا پہچانا ہے جوسابق بادشاہ ظاہر شاہ کے روایتی حمایتیوں میں سے تھا۔

حامد کرزئی
،تصویر کا کیپشنافغانستان کے پہلے منتخب صدر

انیس سو نواسی میں جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو حامد کرزئی ہندوستان چلے گئے جہاں پر انہوں نے انیس سو تراسی تک قیام کیا اور ھماچل پردیش یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کیا اور روس کے خلاف مجاہدین کی مزاحمت میں مالی مدد بھی کرتے رہے۔

افغانستان سے روسی فوجوں کی انخلاء کے بعد انہوں نے برہان الدین ربانی کی حکومت میں ڈپٹی وزیر کے طور ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انیس سو چھیانوے میں جب طالبان نے برہان الدین ربانی کی حکومت کا خاتمہ کیا تو انہوں نے حامد کرزئی کو اقوام متحدہ میں اپنا سفیر نامزد کرنے کی پیشکش کی جسے انہوں نے مسترد کردیا۔ البتہ وہ پاکستان میں رہ کر طالبان کی حکومت کی حمایت کرتے رہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی سی آئی کے بھی بہت قریب رہے ہیں۔

تاہم گیارہ ستمبر کو امریکہ میں جب حملہ ہوا اور جواب میں امریکہ نے طالبان پر حملہ کرکے ان کی حکومت کاخاتمہ کیا تو اس وقت امریکہ کو حامد کرزئی جیسی شخصیت کی ضرورت پڑی اور وہ بھی دوران جنگ اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ مل کر طالبان کا تختہ الٹنے کے لیے عملاً میدان میں کود پڑے۔

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے دسمبر دو ہزار ایک میں جرمنی کے شہر بون میں افغان تنظیموں اور اہم سرکردہ شخصیات کا اجلاس ہوا اور اس میں حامد کرزئی کو افغان عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

دو ہزار چار میں ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے بائیس کے قریب امیدواروں کو شکست دی اور افغانستان کے پہلے منتخب صدر قرار پائے۔

حامد کرزئی کے والد احد کرزئی جن کا کا شمار افغانستان کی سرکردہ شخصیات میں سے تھا کو چودہ جولائی انیس ننانوے کو قتل کردیا گیا جس کی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد کی گئی۔

حامد کرزئی کو پشتو، اردو، انگریزی، فرانسیسی، ہندی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ اپنی آٹھ سالہ دورِ حکومت میں انہوں نے افغانستان میں کافی ترقیاتی کام کیے ہیں مگر ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جس اندازے سے افغانستان کی مالی مدد کی گئی اس حساب سے پیسہ خرچ نہیں ہوا ہے۔ ان کی حکومت پر کرپشن، اورمنشیات کی سمگلنگ کے الزامات بھی ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نسلاً پشتون ہیں اور ان کا تعلق قندھار سے ہے تاہم انہوں نے بچپن کابل اور زندگی کا ایک بڑا حصہ شمالی افغانستان کی وادی پجنشیر میں گزارا ہے۔ ان کی والدہ غیر پشتون ہیں۔ وہ انیس سو ساٹھ میں کابل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ظاہر شاہ کی دورِ حکومت میں سرکاری ملازم تھے۔

عبداللہ عبداللہ
،تصویر کا کیپشندو ہزار ایک کے بعد افغانستان میں قائم ہونے والی عبوری حکومت میں حامد کرزئی کی کابینہ کے وزیر خارجہ رہے

انہوں نے ابتدائی اور اعلٰی تعلیم کابل سے ہی حاصل کی۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ماہر چشم ہیں۔ وہ انیس سو پچاسی میں پاکستان آئے جہاں پر انہوں نے پشاور کے سید جمال الدین افغان ہسپتال میں ایک سال تک خدمات سرانجام دیں۔اگلے سال وہ واپس افغانستان چلے گئے اور وادی پنجشیر میں احمد شاہ مسعود نے انہیں ایک عہدہ دیا۔ انیس سو چھیانوے میں کابل میں برہان الدین ربانی کی حکومت میں وزارت دفاع کے ترجمان جبکہ طالبان کے ہاتھوں ان کی حکومت کی معزولی کے بعد وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے رہے۔

دو ہزار ایک کے بعد افغانستان میں قائم ہونے والی عبوری حکومت میں حامد کرزئی کی کابینہ کے وزیر خارجہ رہے۔ انہیں فارسی، پشتو اور انگریزی زبانوں پر مکمل عبور حاصل ہے۔ بیس اگست کو ہونے والے انتخابات میں انہیں ایک مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نےانتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ منتخب ہونے کی صورت میں حکومت کے مخالفین یعنی طالبان کے ساتھ مفاہمت کی باتوں کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائیں گے جبکہ ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایسی منصوبہ بندی کی جائے گی کہ لوگوں کو ترقی ہوتے ہوئے نظر بھی آجائے۔

ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی

ڈاکٹر اشرف غنی نے اگرچہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری افغانستان کی جدید تاریخ کے موضوع پر حاصل کی ہے تاہم انہیں نہ صرف افغانستان بلکہ عالمی سطح پر ایک منجھے ہوئے ماہر اقتصادیات کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ پشتون ہیں اور ان کی پیدائش سنہ انیس سو انچاس میں صوبہ لوگر میں ہوئی تھی۔ انہوں نے لوگر، ننگرہار اور کابل میں زندگی کے ایام گزارے ہیں۔ ان کے والد شاہی دور میں اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔

انہوں نے بین الاقومی تعلقات، انتھراپولوجی، ڈویلپمنٹ اور حکومتی اور نجی شعبوں کی منیجمنٹ کو بطور مضامین پڑھا ہے۔ انہوں نے لبنان میں قائم امریکی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائئنس اور بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کی اور انیس سو تہتر میں واپس آکر کابل یونیورسٹی کے سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ میں چار سال تک انتھراپولوجی پڑھاتے رہے۔ انہوں نے انیس سو پچاسی میں پاکستان کے مدارس پر ایک سال تک تحقیق کی۔

اشرف غنی
،تصویر کا کیپشناشرف غنی کو افغانستان کے زیادہ تر نوجوان تعلیم یافتہ طبقے کی حمایت حاصل ہے

وہ جب ایک کورس کے سلسلے میں امریکہ گئے تو اس دوران افغانستان پر روس نے حملہ کیا جس میں ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد کو جیل جانا پڑا۔ اس لیے بعد میں انہوں نے امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور وہاں پر کولمبیا یونیورسٹی میں بطور استاد پڑھانا شروع کردیا۔ ڈاکٹراشرف غنی نے انیس اکیانوے میں ورلڈ بینک کے ساتھ کام شروع کردیا۔ وہ انیس سو پچانوے تک جنوبی اور مشرقی ایشیاء میں ورلڈ بینک کے پروجیکٹ کی نگرانی کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے بینک کی طرف سے روس، چین اور انڈیا کے دیگر پروگراموں کی دیکھ بھال کی۔

وہ دو ہزار دو سے دو ہزار چار تک افغانستان کی عبوری حکومت میں حامد کرزئی کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے لیکن جب دو ہزار چار میں حامد کرزئی باقاعدہ طور پر صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے ڈاکٹر اشرف غنی سے وزیر خزانہ کے طور پر کام کرنے کی پیشکش کی تو انہوں نے معذرت کرلی۔ اس کے بعد وہ کابل یونیورسٹی کے سربراہ بنادیے گئے۔

ان انتخابات میں انہیں حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرح ایک مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ انہیں افغانستان کے زیادہ تر نوجوان تعلیم یافتہ طبقے کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ دس اور بیس سالہ منصوبے بنائیں گے جن کے عملی ہونے سے آئندہ سو سے چار سو سال تک آنے والی نسلیں آرام دہ زندگی گزارسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ پانچ سالوں کے دوران ایک ملین نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔

افغانستان میں امن و امان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک داخلی مسئلہ ہے جس پر وہ بات چیت کے ذریعے قابو پاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ امن و امان کے حوالے سے ایک ایسا دفتر بنائیں گے جو ہر آٹھ گھنٹے کے بعد انہیں ملک کی امن و امان کی رپورٹ ان کو پیش کریں۔