افغان انتخابات میں اصل مقابلہ

حامد کرزئی
،تصویر کا کیپشنباقی امیدواروں کے مقابلے میں حامد کرزئی کا کچھ زیادہ داؤ پر لگا ہوا ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

افغانستان میں جمعرات کو ہونے والے صدارتی اور صوبائی کونسل کے الیکشن میں امیدواروں کے باہمی معرکے سے زیادہ اصل مقابلہ طالبان اور امیدواروں کے مابین ہی ہوگا۔

جس طرح صدارتی اور صوبائی کونسل کے امیدوار انتخابی مہم میں لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے میں شب و روز مصروف رہے ہیں اسی طرح طالبان جنگجو افغان عوام کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی دھمکی آمیز مہم پر لگے رہے ہیں۔

افغان حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج سترہ ملین رائے دہندگان کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ وہ جب بیس اگست کو ووٹ دینے نکلیں گے تو انہیں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن افغانستان کی صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ لوگ سکیورٹی کے لحاظ سے افغان حکومت پر زیادہ انحصار اور اعتماد کریں گے

جنوبی اور مشرقی افغانستان جہاں کے دیہاتی علاقوں پر طالبان کا اثر و نفوذ افغان مرکزی حکومت اور اتحادی افواج سے قدرے زیادہ ہے طالبان نے مساجد اور بازاروں میں جاکر لوگوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر کسی نے ووٹ دینے کی جسارت کی تو اسکی رنگ شدہ انگلی کاٹ دی جائے گی۔

قندھار، ہلمند اور زابل میں طالبان کی جانب سے ایسے پوسٹر لگائے گئے ہیں جو شہریوں سے کہہ رہے ہیں کہ انتخابات دراصل امریکی ایجنڈے کا حصہ ہیں لہذا وہ اس کا حصہ نہ بنیں۔

رائے دہندگان کو ڈرانے دھمکانے کے علاوہ طالبان نے انتخابی عمل کو تہس نہس کرنے کی نہ صرف دھمکیاں دی ہیں بلکہ اپنے حملے بھی تیز کیے ہیں۔ طالبان نے پچھلے ہفتے پہلی بار کابل میں اتحادی افواج کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، منگل کو صدارتی محل پر راکٹ اور مشرقی افغانستان میں نیٹو فورسز کے قافلے پر حملے کیے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ دو ہزار چار کے صدارتی انتخابات کے برعکس اس بار امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک طالبان کو انتخابات کے عمل کے دوران خاموش رکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہے شاید اسکی بڑی وجہ یہی ہو کہ گزشتہ انتخابات طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہے تھے اور امریکہ اور اتحادی اپنی ساکھ بچانے کے لیے کامیاب انتخابات کرانے کی ہر ممکن کوشش کررہے تھے۔

گزشتہ انتخابات میں بش انتظامیہ نے اس وقت کے پاکستانی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی توسط سے طالبان کو قائل کرلیا تھا کہ وہ انتخابات کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔ ذرائع کے مطابق اس بار بھی پاکستان کے ذریعے طالبان کو خاموش کرانے کی کوشیں کی گئیں لیکن یہ نیم دلانہ تھیں اور پاکستان کے انکار پر بات آگے ہی نہیں بڑھائی گئی۔

اس صورتحال میں صدارتی انتخابات کے مضبوط امیدوار حامد کرزئی نے مجبور ہوکر اپنے ہی طور پر طالبان کو خاموش رکھنے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔ انہوں نے اپنی مہم کے دوران تقاریر میں طالبان کے لیے خیر سگالی کے پیغامات بھی بھیجے۔ بی بی سی پشتو کے ٹاکنگ پوائنٹ میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ منتخب ہونے کے بعد وہ لویہ جرگہ بلائیں گے جس میں طالبان اور گلبدین حکمت یار کو بھی شرکت کی دعوت دیں گے۔

صدر حامد کرزئی کے بھائی قیوم کرزئی اس وقت قندھار میں ہیں اور وہ بھی پس پردہ رابطوں کے ذریعے طالبان سے مذاکرات کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن بات ابھی تک آگے نہیں بڑھی ہے۔

باقی امیدواروں کے مقابلے میں حامد کرزئی کا کچھ زیادہ داؤ پر لگا ہوا ہے کیونکہ بحیثیت پشتون انہیں جنوبی اور مشرقی افغانستان سے زیادہ ووٹ لینے کی ضرورت ہے لیکن وہاں حالت یہ ہے کہ بی بی سی کے سروے کے مطابق تیس فیصد علاقہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔ جنوب میں دس ایسے اولسوالئی(ضلع) ہیں جہاں پر طالبان کی عملداری ہے۔

افغانستان کے آئین کے مطابق صدارتی انتخاب میں کوئی بھی امیدوار پچاس فیصد اور ایک اضافی ووٹ حاصل کرتا ہے تو وہ کامیاب قرار پائے گا اور اگر مطلوبہ شرح سے کم ووٹ ملتے ہیں تو پھر سب سے زیادہ رائے حاصل کرنے والے پہلے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا۔یہی وہ اصل خوف ہے جو صدر حامد کرزئی کو لاحق ہے کہ اگر طالبان لوگوں کو انتخابات سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو زیادہ نقصان انہیں ہی اٹھانا پڑے گا۔