افغان صدارتی انتخاب، ووٹوں کی گنتی شروع

پولنگ کی تکمیل کے بعد عملے نے بیلٹ بکس سربمہر کر کے منتقل کیے
،تصویر کا کیپشنپولنگ کی تکمیل کے بعد عملے نے بیلٹ بکس سربمہر کر کے منتقل کیے

افغانستان میں طالبان کے زوال کے بعد منعقد ہونے والے دوسرے صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے تاہم دو ہفتوں بعد ہی ابتدائی سرکاری نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پولنگ کے اختتام پر شدت پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود ووٹ دینے پر افغان ووٹروں کی ہمت کو سراہا۔ حامد کرزئی نے وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پندرہ صوبوں میں تہتر پر تشدد واقعات پیش آئے۔

افغان حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ اس الیکشن میں بڑی تعداد میں عوام نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے تاہم آزادانہ اطلاعات کے مطابق اس انتخاب میں ووٹنگ کا ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے اور ملک کے طالبان اکثریتی جنوبی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح نہایت کم رہی ہے۔ اسی دوران دارالحکومت کابل سمیت متعدد علاقوں سے جھڑپوں اور راکٹ حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

<link type="page"><caption> الیکشن سکیورٹی نقشہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/08/090820_afghan_election_map_aw.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> افغانستان میں پولنگ: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/08/090820_afghan_polling_ka.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> افغان صدارتی انتخاب، اہم امیدوار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/08/090820_afghan_profiles_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

پرتشدد واقعات میں غزنی میں قندھار۔قابل ہائی وے پر طالبان نے مسافروں سے بھری ایک بس کو خالی کروا کر نظر آتش کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق طالبان نے اس سڑک کے استعمال پر پابندی لگا رکھی تھی اور اس کی خلاف ورزی کرنے کی سزا کے طور پر ایسا کیا۔

اس کے علاوہ افغانستان کے شمالی صوبہ بغلان میں پولیس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ طالبان نے ایک علاقے میں حملہ کر کے پولنگ سٹیشن بند رکھنے کی کوشش کی اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ بغلان کے شمال میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ایک ضلعی پولیس افسر کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ انتخابی عمل میں شریک نہ ہوں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کیا اور وہاں حملہ ہو گیا تو وہ اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ اس کے برعکس صدارتی امیدوار حامد کرزئی نے لوگوں سے کہا کہ وہ طالبان کی دھمکیوں سے خائف نہ ہوں اور ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔

صدارتی انتخاب کی پولنگ کے لیے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے سے شام چار بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں افغان الیکشن کمیشن حکام نے اس میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر دیا تھا۔

سرکاری ٹی وی پر اپنے بیان میں افغان الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر عزیز اللہ لودن نے بتایا ہے کہ ووٹ ڈالنے کا تناسب بہت زیادہ رہا۔ صدارتی انتخاب کی پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ ایک کروڑ ستر لاکھ افغان ووٹروں کی حفاظت کے لیے افغانستان بھر میں تین لاکھ افغان اور غیر ملکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ پورے افغانستان میں سترہ لاکھ ووٹروں کے لیے 6969 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم جنوبی افغانستان کے سات صوبوں کے کئی اضلاع جن میں طالبان کا اثر و رسوخ زیادہ ہے وہاں پولنگ نہیں ہو رہی ہے۔

دارالحکومت کابل میں ووٹنگ کے دوران اکا دکا واقعات کے علاوہ سکون رہا اور شہر میں ووٹنگ کا ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ کابل کے اوپر ہیلی کاپٹر پرواز کرتے رہے اورگاڑیوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کر کے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے اور اپے حق رائے دہی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا رہا۔

کابل کے عوام میں ووٹنگ کے حوالے سے ملاجلا رجحان سامنے آیا ۔ افغان دارالحکومت کے ایک رہائشی مرتضٰی نے بی بی سی کو بذریعہ ای میل بتایا ہے کہ ’ میں آج ووٹ ڈالنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ لیکن صبح سویرے میں نے سڑکوں کو ویران دیکھا اور وہاں بہت سے سکیورٹی اہلکار تھے۔ میں صرف ووٹ کی خاظر اپنی جان گنوانا نہیں چاہتا‘۔ اس کے برعکس ووٹ ڈالنے والے ایک شخص میرواعظ کا کہنا تھا کہ ’میں خود کو محفوظ تصور کرتا ہوں۔ ووٹنگ میں واحد مسئلہ ووٹنگ کارڈ میں سوراخ کرنے کا تھا۔ عملے کے کٹر کام نہیں کر رہے تھے اور وہ قینچیاں استعمال کر رہے تھے جن پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘۔

طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں متعدد دھماکوں کے باوجود بہت سے ووٹر پولنگ سٹیشن ووٹ ڈالنے پہنچے تاہم ہمسایہ صوبے قندھار میں ووٹنگ کی شرح نہایت کم رہی۔ اسی طرح ننگرہار صوبے کے کچھ اضلاع میں اطلاعات کے مطابق ایک بھی ووٹر پولنگ سٹیشن نہیں آیا۔

افغان الیکشن
،تصویر کا کیپشنووٹرز میں سکیورٹی کے حوالے سے ملے جلے جذبات پائے گئے ہیں

افغانستان میں صدراتی انتخابات کے موقع پورے ملک میں ہائی الرٹ رہا اور انتخاب کے دوران پرتشدد واقعات کی رپورٹنگ پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر بی بی سی کے دو نمائندوں سمیت متعدد صحافیوں کو کچھ دیر کے لیے کابل پولیس نے حراست میں بھی لیا۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق انتخاب کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں کابل پولیس نے کرتی نو نامی رہائشی علاقے میں ایک مکان پر قبضہ کرنے والے دو شدت پسندوں کو مقابلے کے بعد ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ شدت پسند خودکش حملہ آور تھے۔

اس کے علاوہ پکتیا صوبے کے علاقے گردیز میں پولیس نے موٹرسائیکل سوار خودکش حملہ آوروں کو حملے سے قبل ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے جبکہ صوبہ بغلان میں پولیس چوکی پر طالبان کے حملے میں ضلعی پولیس سربراہ ہلاک ہوئے ہیں۔ ان واقعات کے علاوہ ہلمند، قندھار اور غزنی صوبوں میں راکٹ حملے ہوئے ہیں۔ غزنی کے پولیس چیف نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک راکٹ پولنگ سٹیشن کے قریب گرا جہاں تیس افراد ووٹ ڈالنے کا انتظار کر رہے تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

گیارہ ستمبر 2001 میں نیویارک میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کے بعد طالبان حکومت کے زوال کے بعد افغانستان میں یہ دوسرے صدراتی انتخابات ہیں۔ موجودہ صدر حامد کرزئی سمیت اکتالیس امیدوار میدان میں ہیں۔ اصل مقابلہ صدر حامد کرزئی اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں بتایا جا رہا ہے۔

صدارتی انتخابات میں جیتنے والے کو ڈالے گئے ووٹوں میں سے کم از کم پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے ہوں گے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکا تو انتخاب کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گا۔ عوامی رائے کے جائزہ کے مطابق حامد کرزرئی کو پینتالیس فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے وزیر خارجہ کو پچیس فیصد لوگ سپورٹ کر رہے ہیں۔