افغانستان: فریقین کے انتخابی فتح کے دعوے

ووٹوں کی گنتی
،تصویر کا کیپشنسرکاری نتائج کا اعلان دو ہفتوں بعد متوقع ہے

افغانستان میں صدارتی انتخاب میں ڈال گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور موجودہ صدر حامد کرزئی اور ان کے اہم مخالف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے حامیوں کی جانب سے اکثریت حاصل کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

افغان الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور انتخابی نتائج کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا تاہم حکام نے نتائج کے بارے میں اندازے لگانے سے گریز کرنے کو کہا ہے۔

طالبان کی دھمکیوں کے باوجود بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں لاکھوں افغان باشندوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا اور طالبان کے اکا دکا حملوں کے علاوہ ووٹنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن رہا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ملک کے زیادہ تر پولنگ مراکز پر پولنگ کا عمل پایۂ تکمیل تک پہنچا۔

حامد کرزئی کی انتخابی مہم کے سربراہ دین محمد کا کہنا ہے کہ وہ پولنگ مراکز پر مقرر کردہ اپنے انتیس ہزار مبصرین کے رپورٹوں کے تحت اپنی کامیابی کا دعوٰی کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے دین محمد نے کہا ’ ابتدائی نتائج کے مطابق صدر کرزئی کو اکثریت حاصل ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ دوسرے مرحلے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہمیں اکثریت حاصل ہے‘۔

تاہم حامد کرزئی کے مخلاف ڈاکٹر عبداللہ کے ترجمان نے کرزئی کے حامیوں کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ فضل سنگچراکی کا کہنا ہے کہ ان کے مبصرین کے اندازوں کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انتخاب میں تریسٹھ فیصد جبکہ حامد کرزئی نے صرف اکتیس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ یہ حتمی نتیجہ نہیں ہے۔ ہمیں اپنے حامیوں کی جانب سے مزید نتائج مل رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ کل تک سب نتائج آ جائیں‘۔

افغانستان میں پولنگ
،تصویر کا کیپشنانتخابات کے موقع پر تین لاکھ افغان اور نیٹو کے فوجی تعینات کیے گئے تھے

یاد رہے کہ اس سے قبل عبداللہ عبداللہ نے کرزئی کے حامیوں پر دھاندلی کے الزامات لگائے تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے انتخابی کمیشن کو کئی شکایات درج کروائی ہیں جن میں ملک کے جنوبی صوبے قندھار میں مبینہ بے قاعدگیوں کا ذکر ہے۔

افغان حکام نے فریقین کے دعوؤں کی تصدیق سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ نتیجے کے بارے میں اندازے لگانے سے اجتناب برتا جائے۔ افغان صدارتی انتخاب کے سرکاری نتائج آنے والے دو ہفتوں کے بعد ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے ایک افسر زکریا بارکزئی نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انہیں امید ہے کہ نتیجے کا اعلان آئندہ ہفتے کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شمال سے جنوب کے درمیان اور وسطی افغانستان میں ووٹنگ کی شرح مختلف لیکن تسلی بخش رہی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ شرح چالیس سے پچاس فیصد کے درمیان ہوگی‘۔