عراق حملوں میں گیارہ ہلاک

عراقی شہروں سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد سے تشدد میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنعراقی شہروں سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد سے تشدد میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے

عراق کے جنوبی شہر الکوت میں پولیس کے مطابق دو منی بسوں پر بم حملے ہوئے ہیں جن میں گیارہ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد بسوں سے نصب کر دیا گیا تھا اور وہ بغداد اور الکوت کے درمیان واقع سڑک پر دھماکے سے پھٹ گیا۔

الکوت مجموعی طور پر وہ علاقہ ہے جہاں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ دارالحکومت بغداد سے پچانوے میل کے فاصلے پر ہے۔

یہ بم حملے اس سال عراق میں بدترین ٹرک بم حملے کے چند دن بعد ہوئے ہیں جس میں پچانوے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد عراق میں بیشتر افراد ان حکومتی دعووں کو مشکوک قرار دے رہے تھے کہ حکومت نے تشدد پر قابو پا لیا ہے۔

پولیس نے ابتدا میں کہا تھا کہ پیر کے بم دھماکوں میں بیس کے قریب افراد مارے گئے ہیں لیکن بعد میں یہ کہا گیا کہ اس ’مجرمانہ حملے میں‘ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم ہے۔

الکوت میں زہرہ ہسپتال کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک شدگان میں چار خواتین اور اور دو بچے شامل ہیں۔

اس سال جون کے آخر میں عراق کے بڑے قصبوں اور شہروں سے امریکی فوجیوں کے ہٹ جانے کے بعد سے عراق میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور حملوں میں تیزی آئی ہے۔

لیکن مجموعی طور پر تشدد میں کمی آئی ہے جو سنہ دو ہزار چھ اور دو ہزار سات میں اپنے عروج پر تھا۔