پاکستان،افغانستان سرحد بند

افغان سرحد فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنڈرائیوروں نے احتجاجاً اپنے ٹرکوں کو سڑک کے درمیان کھڑا کر دیا ہے

پاکستان کے سرحدی شہر چمن سے ملحقہ پاک افغان سرحد پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان تجارتی سامان لے جانے والے ٹرکوں کی تلاشی کے تنازعے پر ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان سرحد بند ہوگئی ہے۔

سرحد بند ہونے کے باعث نہ صرف افغانستان سے آنے والے سینکڑوں ٹرکوں میں لدھے ہوئے فروٹ اور پھلوں کے خراب ہونے کا خدشہ ہے بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت پاکستان سے افغانستان جانے والے ٹرکوں کے علاوہ نیٹوافواج کے لیے کراچی پورٹ کے راستے جانے والے سینکڑوں کنٹینر بھی افغانستان میں داخل نہیں ہوسکے۔

چمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے سینکڑوں ٹرکوں کے ڈرائیوروں نے سرحد پر موجودپاکستانی سیکورٹی فورسز کے رویے کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے کل سے اپنے ٹرکوں کو سڑک کے درمیان کھڑا کر دیا ہے۔

اس وجہ نہ صرف افغانستان کی جانب سے پاکستان میں آج کوئی گاڑی داخل ہوئی ہے بلکہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں داخل ہونے کے لیے سینکڑوں کنٹینر بھی ابھی تک کھڑے ہیں۔

سرحد پر موجود افغان حکام کاموقف ہے کہ افغانستان کے پاکستان میں داخل ہونے والے ٹرکوں کوفرنٹیئر کورکی جانب سے تلاشی کے بہانے غیر ضروری طور پر لوڈ ان لوڈ کیا جاتا ہے۔

افغان ڈرائیوروں نے آج اسپن بولدک میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ جوٹرک والے پانچ سوروپے دیتے ہیں وہ ٹرک خالی نہیں کرائے جاتے ہیں۔

ان ڈرائیوروں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور اس مسئلہ کوحل کرنے کے لیے اقداما ت کرے تاکہ افغانستان سے پاکستان آنے والے ٹرکوں میں لوڈ انگور سیب خربوزے اور دیگرمیوہ جات خراب ہونے سے بچ جائیں۔

اس سلسلے میں جب میں نے کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے تر جمان مرتضی بیگ سے رابطہ کیا توانہوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ اس سال اپریل میں افغانستان سے انسانی اسمگلنک کے ایک واقعہ میں چالیس سے زیادہ افغان باشندوں کی ایک کنٹینر میں ہلاکت کے بعد پاکستانی سیکورٹی فورسز نے افغانستان سے آنے والے ہر ٹرک اور کنٹینر کی سخت تلاشی کاسلسلہ شروع کیا ہے۔

انہوں نے کیا کہ کسی ٹرک کو لوڈ ان لوڈ نہیں کیا جا رہا کیونکہ یہ کام پاکستان کسٹم کا ہے بقول مرتضی بیگ کے اس وقت سرحد پاکستان نے نہیں افغان حکومت نے بند کی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس سے جلد کھول دیا جائے۔

تاہم جب چمن میں پاکستان کسٹم کے اسسٹنٹ کلیکٹر محمد شاہد سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے کہا کہ افغان ڈرائیوروں نے ایف سی کی جانب سے ٹرکوں کی لوڈنگ ان لوڈنگ کے خلاف سرحد بند کر رکھی ہے کیونکہ افغان ڈرائیوروں کا موقف ہے کہ ایف سی والوں کوصرف منشیات کی روک تھام کرنے کا اختیار ہے کیونکہ لوڈنگ ان لوڈ نگ کا کام صرف کسٹم کا ہے۔

بقول محمد شاہد کے یہ مسئلہ افغان حکومت اور ایف سی کے درمیان ہے اس لیے کہ دوستی گیٹ پر بھی ایف سی کا کنٹرول ہے وہاں کسٹم کا کوئی کردار نہیں ہے۔

دوسری جانب چمن کے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ سرحد کی بندش کی وجہ سینکڑوں ٹرک چمن شہر میں آکر رک گئے ہیں جس کی وجہ سے چمن شہرمیں بھی عام لوگوں اورگاڑیوں کی آمدرفت میں مشکلات کاسامناہے۔