حکومتی وکلاء قبول کرنے سے انکار

ڈاکٹر عافیہ صدیقی
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عافیہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کسی بھی قسم کا دفاع یا کوئي وکیل قبول نہیں۔
    • مصنف, حسن مجتبٰی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک

افغانستان میں امریکی فوجیوں پر مبینہ قاتلانہ حملے کے الزام میں امریکہ میں قید خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے پاکستان حکومت کی طرف سے اپنے دفاع کے لیے مقرر کردہ وکلاء کو مستر کردیا ہے۔

تاہم عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے پاکستانی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وکلاء کو انکے دفاع کی اجازت دے دی ہے اور ان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ دو نومبر مقرر کی ہے۔

بدہ کی صبح نیویارک میں وفاقی عدالت یو ایس کورٹ سدرن ڈسٹرکٹ میں پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کی سماعت عدالت کے جج رچرڈ بریمن نے کی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بروکلین جیل سے عدالت کے کمرے میں لایا گیا تھا جہاں پہلی بار ان کے دفاع کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے مقرر کردہ تین وکیل چارلس سوئیٹ، لنڈا مرینو، لین شا موجود تھے۔

جج رچرڈ بریمن نے عدالت میں آتے ہی حکومت پاکستان کی طرف سے مقرر کردہ تنیوں وکلا اور پہلے سےہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ڈان کارلی اور انکی خاندانی وکیل ایلین شارپ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرنے کے لیے ایک گھنٹے تک کارروائي موخر کردی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیل کے لباس جمپ سوٹ لیکن چہرے سمیت سر سے پاؤں تک سفید چادر میں ملبوس تھیں اور عدالت میں کارروائي کی نوٹس لیتی رہیں۔ وہ مسلسل حکومت پاکستان کی طرف مقرر کردہ وکلاء کو اپنے دفاع کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتی رہی۔ ڈاکٹر عافیہ جج کو براہ راست مخاطب کرتے اپنے ہاتھ اور سر کے اشاروں اور رواں انگریزی زبان میں کہتی رہیں: ’نہیں مجھے کسی بھی قسم کا دفاع یا کوئي وکیل قبول نہیں۔ کیس مجھے لڑنا ہے جج تمہیں نہیں لڑنا۔ مجھ سے تم سمیت سب زبردستی کیوں کر رہے ہو ؟‘ ڈاکٹر عافیہ اس موقع پر رو بھی رہی تھیں۔ جج نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جواب میں کہا وہ خاموش رہیں اور انہیں بولنے کا موقع دیا جائے گا اور یہ کہ انکا مقدمہ بہت پیچیدہ اور مشکل ہے اور اسکے لیے یہ ان کے اور انصاف کے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے وکیل مقرر کریں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنے دفاع کے لیے مقرر کردہ وکلاء کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ اسے ’ایف بی آئی اور امریکی حکومت کے ان اہلکاروں سے ملنے کی اجازت دی جائے جنہوں نے اس سے افغانستان میں پوچھ گچھ کی تھی۔‘

ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنی ہاتھ کی انگلی جج کیطرف بلند کرتے ہوئے کہتی رہیں کہ ’جو بھی آپ لوگ کہہ رہے ہیں میں ان سے متفق نہیں۔ نہ ہی مجھے کوئي وکیل قبول ہے۔ میں جہاں موجود ہوں وہاں مجھے زبردستی لایا گيا ہے۔ جج میرا کیس تمہیں نہیں مجھے لڑنا ہے۔‘ جج نے عافیہ صدیقی کی اس دلیل کے جواب میں کہا ’میرا کام انصاف کے مفاد اور ہرکسی کے مفاد کا دفاع کرنا ہے۔ تمہیں فیصلہ کرنا ہے کہ تمہیں حکومت پاکستان کی طرف سے مہیا کردہ وکیلوں یا امریکی حکومت کی طرف سے مہیا کردہ وکیل کے ذریعے‏ دفاع کرنا ہے یا پھر خود اپنا دفاع آپ کرنا ہے۔‘ جج نے کہا کہ حکومت پاکستان نے جنیوا کنونشن کے تحت وکلاء مقرر کیے ہیں اور یہ دفاع کے وکلاء کی مضبوط ٹیم ہے۔ تاہم جج نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے کہا دفاع کے لیے وکلاء کو مسترد کرنا انکی سنگین غلطی ہوگي۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستاکن کی طرف سے مقردد کردہ وکیل چارلس سوئیٹ گوانتانامو بے میں اسامہ بن لادن کے ڈرائیور سلیم ہمدان کے دفاع کے وکیل تھے جبکہ دو اور وکلاء بھی دہشتگردی سے مبینہ تعلق کے ہائي پروفائل کیسوں میں فلسطینی پروفیسر سمیع الوریان اور رفاعی ادارے ہولی لینڈ فاؤنڈیشن میں مبینہ ملزمان کے وکیل رہے ہیں۔

تاہم جج رچرڈ بریمن نے واضح کیا کہ جب تک ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف الزمات عدالت میں ثابت نہ ہوجائيں وہ بیگناہ تصور کی جائيں گي۔

ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء نے ایک بار پھر عدالت سے جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی برہنہ تلاشی کی شکایت کی اور کہا کہ یہ انکے آئینی اور شخصی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اسکی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی عدالت میں آنا ہی نہیں چاہتیں۔

جج رچرڈ بریمن نے اس فرق پر حیرت کا اظہار کیا کہ حال ہی میں ٹیکساس کے نفسیاتی مرک‍ز میں داخل ہونے کے دنوں کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بغیر جسمانی برہنہ تلاشی کے رکھا گيا جبکہ جیل میں انکی برہنہ جسمانی تلاشی لی جاتی ہے۔ تاہم جج نے کہا کہ یہ انکی نہیں بلکہ امریکی جیل چلانے والوں کا صوابدید ہے جس کے لیے دفاع کے استغاثہ کے وکلاء کو مل بیٹھ کر حل نکالنا ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف افغانستان میں امریکی فوجیوں پر مبینہ قاتلانہ حملے کے الزام میں مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ دو نومبر مقرر کی ہے۔ جبکہ سترہ ستمبر کو دفاع کے وکلاء پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مسلسل انکار کے مسئلے کے حل اور تئيس ستمبر کو برہنہ جسمانی تلاشی کے مسئلے پر استغاثہ اور دفاع کے وکلاء کے دلائل کے لیے تاریخیں مقرر کی گئي ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ کی بدھ کی صبح پیشی کے موقع پر انکے بھائي محمد صدیقی اور انکی اہلیہ، نیویارک میں پاکستانی نائـب قونصل جنرل ثاقب رؤف اور جنگ مخالف تنظیم انٹرنیشنل ایکشن کی سربراہ سمیت بڑی تعداد میں پاکستان، مشرق وسطی سمیت مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مرد اور عورتیں موجود تھیں۔ سماعت کے اختتام پر وفاقی مارشل کے ساتھ جیل کو جاتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کمرہء عدالت میں آنے والے لوگوں کا شکریہ اد کیا جس پر انکے ہمدردوں و حمایتوں نے ان کے لیے تالیاں بجائيں اور ہاتھ ہلاۓ جبکہ انکے بھائي نے ان سے با آواز بلند کہا کہ جو کچھ انہوں نے عدالت میں کہا وہ ان سے متفق ہیں۔

مقدمہ کے بدھ کی کارروائي کے اختتام پر عدالت سے باہر پاکستانی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وکلاء سمیت ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء نے صحافیوں کے سامنے ایک تحریر ی بیان پڑہ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ بیگناہ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے خلاف الزمات جھوٹے ثابت ہونگے۔

عدالت کے باہر صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں وکیل چارلس سوئیٹ نے کہا کہ وہ اس سے پہلے گوانتانامو بے میں بھی قید لوگوں کے دفاع کے وکیل رہ چکے ہیں اور ڈاکٹر عافیہ کا عدالت میں دفاع قبول کرنے سے انکار میں وہ اس لیے حق بجانب ہے کہ وہ اس سسٹم کی ستائي ہوئي ہے جو اسے بیگناہ ہونے کے باوجود سزا دلوانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جو دفاع کا حق نہیں دینا چاہتے وہ امریکی حکومت ہے اور حکومت اچھی طرح سمجھتی ہے اسکے نظام کو وہ ڈاکٹر عافیہ جیسی بیگناہ عورت کیخلاف کیسے استعمال کرے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ امریکی آئین و قانون کی رو سے وہ ضرور بیگناہ ثابت ہونگي۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے امریکہ میں دفاع کے لیے بیس لاکھ ڈالر کی رقم مہیا کی ہے جس میں سے پندرہ لاکھ امریکی ڈالر بطور فیس تینوں وکیلوں کو اد کیے گئے ہیں جبکہ باقی پانچ لاکھ ڈالر ’انتظامی امور‘ کی مد میں بتاۓ جاتے ہیں۔