دو کروڑ لوگوں کو پھیلتے سمندر سےخطرہ

ایک نئی تحقیق کے مطابق بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے دو کروڑ لوگوں کو آنے والے عشروں میں سمندر کی بڑھتی سطح سے خطرہ ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندر کا کھارا پانی اندرونی علاقوں میں داخل ہوکر ان علاقوں کی کاشت کو متاثر کر سکتا ہے جن میں چاول سب سے اہم ہیں۔
یہ ریسرچ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب حکومت نے پانچ برسوں میں پانچ ارب ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نپٹا جا سکے۔
یہ پیشن گوئی سینٹر فار انوائرو منٹل اینڈ جیوگرافک انفارمیشن سروسز نے کی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کا کچھ حصہ مکمل اور مستقل طور پر سمندر کے نیچے چلا جائے گا جبکہ جنوب مغرب کے بڑے علاقے ہر مون سون میں سیلاب کی زد میں ہوں گے۔
ادارے کے سینئیر سائنسدان احمد الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں سمندر کا کھارا پانی اس غریب ترین علاقے میں چاولوں کی کاشت مشکل کر دے گا اور چاول کی زیادہ تر کاشت انہیں علاقوں میں کی جاتی ہے جن کو سمندر سے خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں لوگ روزگار کے لیے شہروں کا رخ کریں گے اور ہم دو کروڑ لوگوں کی بات کر رہے ہیں۔
تحقیق کاروں کے مطابق بنگلہ دیش کے گیارہ مانیٹرنگ سٹیشنوں سے جمع اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ تیس سال میں سمندر کی سطح میں ہر سال اوسطاً پانچ ملی میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں بنگلہ دیش کے وزیر محمد عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ ہمیں سمندر کو روکنے کے لیے ایسے ہی پشتے بنانے ہوں گے جیسے ہالینڈ نے بنائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اگلے پانچ سالوں میں عالمی برادری سے پانچ ارب ڈالر کی امداد کی امید ہے اور یہ امداد کی صورت میں ہونا چاہئے نہ کہ سود کے ساتھ قرضے کی شکل میں۔
بنگلہ دیش ان ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے جو ماحولیات میں تبدیلی سے نپٹنے کے لیے امداد کی اپیل کر رہے ہیں۔





















