افغانستان: نیٹو سربراہ کی پریشانی

نیٹو سیکریٹری جنرل
،تصویر کا کیپشن’نیٹو کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے بعد جنگ کے بارے میں عوام کا مؤقف تبدیل ہو رہا ہے‘

نیٹو کے سیکریٹری جنرل اینڈرز فو رسموسن نے کہا کہ وہ افغانستان جنگ کے بارے میں عوام کے بڑھتے ہوئے شک و شبہات پر پریشان ہیں۔

سیکریٹری جنرل نے امریکہ میں ہونے والی ایک تقریب کے لیے تیار کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ فکر مند ہیں کہ عوام میں شروع ہونے والی بحث ’اب غلط سمت کی جانب جانا شروع ہو گئی ہے‘۔

ان کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ایک بڑے اجلاس کا انعقاد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران بین الاقوامی فوج نیٹو کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے بعدجنگ کے بارے میں عوام کا مؤقف تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان پر حملے کے آٹھ سال بعد وہاں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے بعد سے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

’اتحادی افواج کی ہلاکتوں میں اضافہ، شہریوں کی اموات اور حالیہ صدارتی انتخاب میں بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلیوں کے الزامات کے بعد مخالفین کو مغربی ممالک میں مہم چلانے کا موقع ملا ہے۔‘

نیٹو کے جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق رسموسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی، صحت، تعلیم، ترقیاتی کام اور بہتر حکومت کے ساتھ ملک کے تمام علاقوں میں قیادت مقامی رہنماؤں کے حوالے کرنے پر سوچنا ہو گا۔

سیکریٹری جنرل نے وضاحت کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کے بعد بہت سے ممالک میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ہم حالات کو تیزی سے بہتر نہیں کر پا رہے ہیں۔

’ان تمام حالات کے باوجود جب تک ضرورت ہے افعانستان میں لازمی قیام کرنا ہوگا اور ہم اس وقت تک رکیں گے جب تک ہماری ضرورت ہے۔ اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ افغانستان سے بھاگنے کے لیے انخلاء ایک آپشن ہے تو ایسا نہیں ہے۔‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنصدارتی انتخاب میں بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلیوں کے الزامات کے بعد مخالفین کو مغربی ممالک میں مہم چلانے کا موقع ملا ہے: رسموسن

رسموسن نے کہا کہ جس طرح سوچا گیا تھا کہ افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف ایک تیز کارروائی کی جائے گئی اس طرح نہیں ہو سکا لیکن زمینی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان کے دوبارہ طاقت میں آنے کے کوئی امکانات نہیں ہے اور نہ ہی افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ دنیا کے لیے ایک خطرہ بن سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس طرح سے افغانستان سے نکلتے ہیں تو افغانستان میں موجود دہشت گرد حملے کریں گے جس کے بعد پاکستان اور وسطی ایشیاء میں بدامنی پھیلے گی۔ لیکن ’ایسا ہم ہونے نہیں دیں گے۔‘

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم، فرانس کے صدر اور جرمنی کی چانسلر نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ افغان انتخابات کے بعد وہاں پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کرنے کے لیے اجلاس بلایا جائے۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز جرمنی کے مارشل فنڈ کی جانب سے جاری ہونے والے سروے کے مطابق یورپ کے تریسٹھ فیصد لوگوں نے افغانستان کے حالات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔