’دس فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی ضروری‘

اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ افغان انتخابی شکایات کمیشن کے سربراہ گرانٹ کپن کا کہنا ہے کہ دھاندلی کے شواہد ملنے کے باعث افغانستان میں دس فیصد پولنگ مراکز میں دوبارہ گنتی کی ضرورت ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’تمام صوبوں میں واقع پچیس سو سے زائد پولنگ سٹیشنز پر انتخابات کے نتائج متاثر ہوئے ہیں‘۔
کپن کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب اقوام متحدہ کے مشن کے اندر انتخابات میں دھاندلی کے معاملے پر بحث ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ افغان صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے پچانوے فیصد کی گنتی کے بعد افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی کو چوّن فیصد ووٹ ملے ہیں۔ لیکن اگر انتخابی دھاندلی کی تحقیق کے بعد یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو حامد کرزئی کو ملے ووٹوں کی تعداد پچاس فیصد سے کم ہو جائے گی اور اس طرح حامد کرزئی اور اٹھائیس فیصد ووٹ حاصل کرنے والے ان کے مخالف عبد اللہ عبد اللہ کے درمیان ایک مرتبہ پھر مقابلہ ہوگا۔
طالبان دور کے خاتمے کے بعد افغانستان میں ہونے والے دوسرے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ افغان انتخابی شکایات کمیشن نے ملک کے انتخابی کمیشن کو گزشتہ ہفتے ہدایت کی تھی کہ وہ دوباہر گنتی کے عمل کے لیے ان پولنگ مراکز کی نشاندہی کریں جہاں سو فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں یا پھر جہاں ایک ہی امیدوار نے پچانوے فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ہی انتخابی شکایات کمیشن نے پکتیکا، قندھار اورغزنی صوبوں کے درجنوں پولنگ مراکز کے نتائج کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ دھاندلی کی تحقیقات میں مہنیوں نہیں تو کئی ہفتے کا وقت ضرور لگ سکتا ہے اور ان تحقیقات کی تکمیل تک انتخابات جیتنے والے امیدوار کے نام کا سرکاری اعلان نہیں کیا جا سکتا۔


















