انتخابات کی ساکھ پر یقین ہے: کرزئی

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی ہونے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو ملک میں ہوئے صدارتی انتخابات کی ساکھ پر یقین ہے۔
انہوں نے کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’مجھے صدارتی انتخابات، عوام اور حکومت کی ساکھ پر پختہ یقین ہے۔‘
انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے حوالے سے انہوں نے کہا ’بڑی دھاندلی نہیں ہوئی۔ اگر دھاندلی ہوئی بھی ہے تو بہت چھوٹے پیمانے پر ہوئی ہے جو ہر ملک میں ہوتی ہے۔
اس سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے یورپی یونین کے مبصرین کےافغان صدارتی انتخاب سے متعلق بیان پر غصے کا رد عمل ظاہر کیا ہے۔
یورپی یونین کے مبصرین نے کہا تھا کہ وہ انتخاب میں ڈالے گئے تقریباً پچیس فیصد ووٹوں کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ڈیڑھ ملین ووٹوں میں بڑی تعداد صدر کرزئی کے حق میں تھا۔
جواب میں صدر کرزئی کی انتخابی مہم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں یورپی مبصرین کے اس بیان کو جانبدار اور غیر ذمہ دار قرار دیا ہے۔
صدر کرزئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ چند حکومتی اہلکار ایسے تھے جو ان کے حق میں جانبدار تھے لیکن چند ایسے بھی تھے جو ان کے مخالف عبد اللہ عبد اللہ کے حق میں جانبدار تھے۔ ’لیکن ایسا ہونا کافی ممکن تھا کیونکہ افغانستان کو مستحکم ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔‘
انتخابی بے قائددگیوں کے یہ الزامات اس وقت آئے ہیں جب افغانستان میں صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر کرزئی کو چون عشاریہ چھ فیصد ووٹ ملے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ یہ مقابلہ جیت گئے ہیں۔ افغان انتخابی کمیشن کے اہلکاروں کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور اس کے مطابق صدر کرزئی کو تقریباً پچپن جبکہ ان کے قریبی حریف ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کو اٹھائیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی شرح اڑتیس عشاریہ سات فیصد تھی۔
یورپی یونین کے مبصرین کا یہ بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب افغانستان کے صدارتی انخاب کے نتائج انتہائی متنازع بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ نے انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کے الزامات لگائے ہیں اور اطلاعات کے مطابق کئی امریکی اہلکار بھی اس پر خدشات ظاہر کر چکے ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ کائے ائدہ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ان کے اور ان کے نائب پیٹر گیلبریتھ میں اس بات پر اس قدر اختلافات تھے کہ گیلبریتھ کو افغانستان چھوڑ کر جانا پڑا۔





















