گیسیں کم کریں گے: چین کا عہد

براک اوباما
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانیکی مون نے عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے فیصلے دور رس نتائج کے حامل ہوں گے۔آئندہ نسلوں کا مستقبل اور کھربوں افراد کا روزگار اور امیدیں حقیقت میں اب آپ سے وابستہ ہیں۔‘

چین کے صدر ہو جنتاؤ نے اقوامِ متحدہ میں ماحولیات سے متعلق کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کا ملک مہلک گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے اپنی کوششیں بڑھائے گا۔

نیویارک میں ہونے والی اس سربراہ کانفرنس میں ہو جنتاؤ نے اپنے منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

امریکہ نے جو چین کے علاوہ کاربن گیسوں کے اخراج کا دوسرا بڑا ذمہ دار ہے، کہنا ہے کہ چین کی تجاویز مفید ہیں لیکن اس کے لیے ابھی اعدادوشمار کی ضرورت ہے۔

ان مذاکرات میں لگ بھگ ایک سو کے قریب رہنما شریک ہیں اور یہ کانفرنس کوپن ہیگن میں ہونے والی اس سربراہ کانفرنس سے قبل ہوئی ہے جس میں اس اہم معاملے پر ایک نئے معاہدے کا امکان ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانیکی مون کا کہنا ہے کہ دسمبر میں اگر اس معاملے پر معاہدہ نہ ہوا تو یہ بات اخلاقی طور پر ناقابلِ معافی ہوگا۔

کوپن ہیگن کے معاہدے کے سلسلے میں جو لوگ مذاکرات میں شریک ہیں اس کوشش میں ہیں کہ کیوٹو پروٹوکول کی جگہ کسی دوسرے معاہدے پر اتفاق ہوجائے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ اجلاس ماحولیاتی مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے بلایا ہے۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے فیصلے دور رس نتائج کے حامل ہوں گے۔آئندہ نسلوں کا مستقبل اور کھربوں افراد کا روزگار اور امیدیں حقیقت میں اب آپ سے وابستہ ہیں۔ ‘

چینی صدر کی تجاویز سے مہلک گیسوں کے اخراج میں کوئی بہت زیادہ کمی نہیں ہوگی کیونکہ چین کی معیشت تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔

ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ چینی تجاویز مفید ہیں لیکن بیجنگ کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اعداد و شمار فراہم کرے۔

ماحولیات کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے تمام تر بحث کاربن ڈائی اوکسائڈ میں کمی کے ارد گرد گھومتی ہے لیکن ترقی پذیر ممالک جن میں بھارت اور چین شامل ہیں یہ محسوس کرتے ہیں ان پر دباؤ منصفانہ نہیں۔

ترقی یافتہ ممالک نے دنیا کو ماحولیات سے ہونے والے خطروں سے نکالنے کے لیے کاربن گیسوں کے اخراج میں کٹوتی کرنے کا عہد نہیں کیا جبکہ غریب ممالک اس لیے کٹوتی کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کے مطابق کسی بھی طرح کی پابندی یا کٹوتی ان کی ترقی میں روکاوٹ بن سکتی ہے۔

ان مذاکرات میں چین کا بہت اہم کردار ہوگا کیونکہ ایک تو وہ سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والا ملک ہے دوسرے وہ ایک ابھرتی ہوئی بڑی معیشت بھی ہے۔

چین کے علاوہ امریکہ بھی آلودگی کے لیے ذمہ دار ایک بڑا ملک ہے۔ماضی کی انتظامیہ کے برعکس امریکی صدر بارک اوباما نے ماحولیات میں تبدیلی کو ایک اہم مسئلہ تو مان لیا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کاربن گیسوں کے اخراج کے مسئلے پر بہت سست رفتار سے کام کر رہا ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

امریکہ اور چین کی جانب سے سیاسی قوتِ ارادی اس تعطل کو ختم کرنے میں بہت اہم رول ادا کر سکتی ہے۔